Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, May 20, 2020

تیری ‏لحد ‏پر ‏خدا ‏کی ‏رحمت،تیری ‏لحد ‏کو ‏سلام ‏پہنچے۔

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری:کے سانحہ ارتحال پر تعزیت۔
از / مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی/صداٸے وقت 
==============================
مفکر اسلام،مفسرقرآن،محدث کبیر،محقق دوراں،فکر نانوتوی اور رموز ولی اللہی کے شارح و امین ،فقیہ زمن ،امام المنطق والفلسفہ ،نمونہ سلف ،درجنوں کتابوں کے مصنف،ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدر مدرس ، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری نے ۱۹/مئ ۲۰۲۰ء مطابق ۲۵رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ بروز منگل بوقت چاشت سنجیونی ہوسپیٹل ملاٹ ممبئ میں داعی اجل کو لبیک کہا،ان کی طبیعت ادھر کئ مہینوں سے خراب چل رہی تھی،اتار چڑھاؤ آتا رہتا تھا،رمضان المبارک میں ان کی تفسیروں کا سلسلہ ممبئ میں جاری تھا،سوشل میڈیا پر افادات آبھی رہے تھے،پھیپھڑے میں پانی بھر جانے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری تھی اور یہی مرض الموت ثابت ہوا،تدفین پانج بجے شام اوشیوارہ مسلم قبرستان جوگیشوری(ویسٹ) ممبئ میں عمل میں آئی،پہلی نماز جنازہ ان کے صاحبزادہ مولانا عبدالوحید صاحب نے سنجیونی نرسنگ ہوم سے متصل مسجد کے قریب پڑھائ اور دوسری نماز جنازہ کی امامت حضرت کے ایک اور صاحبزادہ مولانا عبد اللہ نے قبرستان سے متصل کی  ،لاک ڈاؤن کی وجہ سے محدود تعداد میں ہی لوگوں کو جنازہ میں شرکت کی اجازت ملی،حضرت مفتی صاحب کے انتقال سے علمی دنیا کا جو خسارہ ہوا ہے اس کی تلافی کی کوئی شکل نظر نہیں آتی،اہل علم و فن بہت ہیں ،خود دارالعلوم دیوبند میں علمی دنیا کے شمس و قمر، ماہ و نجوم کی کثرت ہے،اس کے باوجود کہنا پڑتا ہے کہ "ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے"پس ماندگان میں ۹لڑکے ،دولڑکیاں بقید حیات ہیں  پوتے پوتیاں نواسے نواسیوں سے بھرا پرا گھر چھوڑا۔اہلیہ ۲۰۱۱ء میں انتقال فرما گئیں تھیں،اور حضرت کی زندگی میں ہی دو نوجوان لڑکوں نے داغ مفارقت دے دیا تھا،

حضرت مولانا مفتی سعید احمد بن یوسف بن علی بن حیوا(یحییٰ)بن نور محمد کی ولادت ۱۹۴۰ء مطابق ۱۳۶۰ھ کے آخری ماہ میں ہوئی،یہ تاریخ بھی تخمینی ہے، واک پیڈیا میں تاریخ ولادت ۱۹۴۲ء درج ہے ،حضرت کی جاۓ پیدائش کالیڑہ ضلع بناس کانٹھا (شمالی گجرات )ہے جو پالن پورسے تیس میل جنوب مشرق میں واقع ہے،ابتدائ تعلیم کا آغاز ان کے والد محترم نے کروایا،پھر کالیڑہ کے مکتب میں بیٹھا دۓ گیۓ ،یہاں آپ نے مولانا داؤد صاحب چودھری،مولانا حبیب اللہ صاحب چودھری اور حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب جونکیہ سے کسبِ فیض کیا،فارسی کی ابتدائی تعلیم دارالعلوم چھاپی میں اپنے ماموں مولانا عبدالرحمن صاحب شیرا سے حاصل کی،چھ ماہ کے بعد اپنے ماموں کے ساتھ ان کے وطن"جونی سیندھی"آگئے اور فارسی کی تعلیم جاری رکھی،عربی کی ابتدائی اورمتوسطات تک کی تعلیم حضرت مولانا نذیر میاں صاحب پالن پوری کے مدرسہ سے حاصل کیا،اس زمانہ میں مولانا محمد ہاشم بخاری (سابق استاذ دارالعلوم دیوبند) یہاں استاذ تھے،چنانچہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا،۱۳۷۷ھ میں مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور تشریف لائے اور یہاں تین سال تک وہاں کے نامور اساتذہ حضرت مولانا صدیق احمد صاحب جموئ مولانا مفتی یحییٰ صاحب سہارنپوری ،مولانا عبد العزیز راۓ پوری رحمھم اللہ سے منطق و فلسفہ اور دوسرے علوم متداولہ کی درسی کتابیں پڑھیں،۱۳۸۰ھ مطابق ۱۹۶۰ء میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۹۶۲ء میں سند فراغت پائ،شوال میں دارالافتاء میں داخل ہوئے،اور ڈیرھ سال بعد معین مفتی بناۓ گئے ،فراغت کے بعد آپ نے حفظ قرآن شیخ محمود عبدالوہاب مصری سے کیا جو ان دنوں جامعہ ازہر قاہرہ کی طرف سے دارالعلوم میں مبعوث تھے۔

تدریسی زندگی کا آغاز دارالعلوم اشرفیہ راندیر سے ہوا،۱۳۸۴ھ سے ۱۳۹۳ھ تقریباً نو سال درس نظامیہ کی اعلٰی نصابی کتابیں پڑھائیں ،یہاں آپ نے تفسیر،عقائد،اصول تفسیر،فقہ اور اصول فقہ کی منتہی کتابوں کا درس دیا،تصنیف وتالیف کا آغاز بھی وہیں سے ہوا،چنانچہ داڑھی اور انبیاء کی سنتیں ،حرمت مصاہرت،العون الکبیر وغیرہ اسی دور کی یادگار ہیں،۷/رجب ۱۳۹۳ ھ کی مجلسِ شوریٰ کے ایک فیصلہ کے مطابق بحیثیت استاذ دارالعلوم دیوبند میں آپ کی تقرری عمل میں آئی، اللہ کے فضل اور اپنی محنت کی بدولت آپ مسلسل ترقی کرتے رہے،یہاں تک کہ حضرت مولانا نصیر احمد خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علالت کے زمانہ  ۲۰۰۸ءمطابق ۱۴۲۹ھ میں بخاری شریف جلد اول کا درس بھی آپ سے متعلق ہوا اور آپ  دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے،آپ کی تصنیفات و تالیفات کی تعداد چھیالیس ہے،جس میں تحفہ الالمعی شرح سنن ترمذی کی آٹھ جلدیں اور تحفتہ القاری شرح صحیح البخاری کی بارہ جلدیں شامل ہیں،صدر جمہوریہ ہند پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل نے آپ کو عربی میں علمی شغف اور مسلمہ قابلیت کے لئے ۱۹/جون ۲۰۱۲ ء کو ایوارڈ سے نوازا تھا۔تصوف کے رموز آپ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب اور مولانا عبد القادر راۓ پوری رحمھم اللہ سے سیکھے اور حضرت مولانا مفتی مظفر حسین مظاہری رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت بیعت پائ ، تین بار حج بیت اللہ کی سعادت حاصل ہوئی ،پہلا حج ۱۴۰۰ھ مطابق ۱۹۸۰ء میں اور آخری حج ۱۹۹۰ء میں وزارت حج و اوقاف سعودی عرب کی دعوت پر کیا،۱۴۱۴ ھ میں ایک سفر عمرہ کا بھی آپ نے کیا،آپ کا فیض علمی ہندوستان ہی نہیں دنیا کے بیشتر ملکوں میں شاگردوں کے ذریعہ پہونچا ،خود آپ بھی رمضان میں محاضرات کے لئے کناڈا اور برطانیہ خصوصیت کے ساتھ بلاۓ جاتے تھے،گزشتہ رمضان بھی آپ نے لندن میں گذارا تھا اور آپ کی تقریروں سے مسلمانوں کی بڑی تعداد مستفیض ہوتی تھی،لندن کی مختلف مجلسوں میں میں  بھی شریک ہوا کرتا تھا ۔

میری پہلی باقاعدہ ملاقات حضرت مفتی صاحب سے صد سالہ کے سال ان کے گھرپر ہوئ ،یہ میرا جلالین کا سال تھا یعنی عربی ششم کا، اور میں اپنی پہلی تصنیف فضلاۓ دارالعلوم اور ان کی قرآنی خدمات کے لئے مواد جمع کررہا تھا،حضرت کی تفسیر ہدایت القرآن کے نام سے اس زمانہ میں قسط وار چھپ رہی تھی،میں   حضرت کے پاس بعد نماز عصر پہونچ گیا اور ان کی زندگی اور تفسیر سے متعلق تفصیلی انٹرویو لیا ،جس کا ایک حصہ میری کتاب فضلاۓ دارالعلوم اور ان کی قرآنی خدمات میں شامل ہے،مجھے یاد ہے کہ جب میں نے حضرت سے دریافت کیا کہ بہت ساری تفسیر کی موجودگی میں آپ کو اس کام کی ضرورت کیوں محسوس ہوئ،فرمایا کہ "پاگل پن ہے"میں خاموش ہوگیا کہنے لگے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ قرآن کریم کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے،میں سوچتا ہوں کہ کوئی خاص بات اللہ تعالیٰ اس کام کی وجہ سے میرے دل میں بھی ڈال دے گا ،پھر فرمایا کہ  اس تفسیر کا آغاز مولانا کاشف الہاشمی نے کیا تھا ،مکتبہ حجاز لیتے وقت اس تفسیر کی تکمیل کا وعدہ میں نے کیا تھا اسی کو نبھا رہا ہوں۔

حضرت مفتی صاحب سے میرے تعلقات دورۂ حدیث کے نتیجہ  امتحان آنے کے بعد شروع ہوۓ ،دورۂ میں میری جب پوزیشن آگئ تو حضرت کی توجہ میری طرف مبذول ہوئی ،دورۂ حدیث کی بیشتر کتابیں میں نے حضرت سے ہی مدنی مسجد میں پڑھی تھیں ،اور تقریریں بھی نقل کی تھیں،دارالعلوم بند تھا اور کیمپ میں دورہ کی اکثر کتابیں حضرت ہی  کے زیر درس تھیں ،بعد میں بخاری شریف حضرت مولانا نصیر احمد خاں صاحب پڑھانے لگے تھے۔دورہ سے فراغت کے بعد جب میں نے افتاء میں داخلہ لیا تو حضرت ہی اس شعبہ کے ذمہ دار تھے،حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سفر حج پر چلے گئے تھے،چنانچہ داخلہ کی کارروائی حضرت نے ہی مکمل کرائ،داخلہ سے پہلے ہی حکم دیا کہ شامی کی پہلی جلد،طحطاوی علی المراقی اور فتاویٰ رشیدیہ اپنے اپنے پیسوں سے خرید لاؤ ،حکم کی تعمیل کی گئی،پھر فرمایا کہ کتاب کے صفحات الٹنا سیکھو،تم لوگ مدرسہ کی کتابوں کی جلد الٹ الٹ کرتوڑ دیتے ہو،پھر کھول کر دکھایا کہ اس طرح کتاب کھولنے سے جلد نہیں ٹوٹتی ہے،پہلے سبق میں تین نصیحتیں بھی کیں،ایک یہ کہ اگر فتویٰ تم کو لکھنا ہو تو سوال اپنے قلم سے کبھی نہیں لکھنا،جواب ہمیشہ مستفتی کے سوال والے کاغذ سے ہی شروع کرنا ،چاہے  ایک سطرہی اس کاغذ پر آۓ ، تاکہ کوئی بدل نہ سکے ، دوسطروں یا الفاظ کے بیچ میں اتنا فاصلہ نہ چھوڑنا کہ کوئی اضافہ کرسکے،یہ تینوں نصیحتیں آج تک کام آرہی ہیں،پھر فرمایا دستخط صاف صاف کرنا ،اس لئے کہ فتویٰ کی اہمیت مفتی کی شناخت سے ہوتی ہے،پھر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ دستخط کا ٹیڑھاپن مزاج کے ٹیڑھےپن کو بتاتاہے۔

افتاء کے سال ہی میں نے حضرت کی تقریر ترمذی سترہ سو صفحات میں نقل کیا ،مفتی رشید احمد لینیسیا جنوبی افریقہ ان تقریروں کو ٹیپ کرتے اور میں رات کو کیسیٹ کی مدد سے نقل کرتا،بعد میں مفتی رشید احمد نے وہ ٹیپ ریکارڈر مجھے ہدیہ کردیا جو آج بھی میرے پاس موجود ہے،میں نے وہ تمام نقل شدہ صفحات  نظر ثانی کے لئے حضرت کی خدمت میں پیش کردیا تھا،حضرت کی رائے تھی کہ میں ایک بار پھر ترمذی شریف ان سے پڑھوں ،تقریریں قلم بند کروں اور دونوں کو ملاکرکے ایک مسودہ تیار کروں ،حضرت کی نظر ثانی کے بعد اسے شائع کیا جائے،حضرت کی تجویز یہ بھی تھی کہ میں مدرسہ احمدیہ ابابکر پور ویشالی سے دیوبند آجاؤں بال بچوں کے ساتھ نان و نفقہ حضرت نے اپنے ذمہ لینے کی بات بھی کہی،لیکن اسی زمانہ میں حضرت کے بڑے صاحبزادہ  کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا،حضرت پر اس کا زبردست اثر رہا اور بات آئ گئ ،ہوگئ ،بعد میں حضرت کی تقریری افادات پر مشتمل تحفہ الالمعی سامنے آئ۔

حضرت نے میری کئ کتابوں کی حرفا حرفا تصحیح کی "دین کی دعوت کا آسان طریقہ"جب میں نے لکھا تو حضرت نے ایک ایک سطر پڑھا،ذیلی عناوین لگاۓ ،پیش لفظ لکھا اور ضروری حذف واضافہ کیا،حضرت کے قلم کی یہ تصحیح آج بھی بطور تبرک نوراردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما مہوا ویشالی میں موجود ہے۔

میں نے جب آثار السنن پر تفہیم السنن کے نام سے کام شروع کیا تو شروع کے چند صفحات ان کے پاس لے گیا، فرمایا کتاب لکھنے کے لئے یہ طے کرنا چاہیے کہ یہ کتاب کس کے لئے لکھی جارہی ہے،میں نے کہا کہ سوچتا ہوں،طلبہ اساتذہ سب کے لئے مفید ہو ،فرمایا:تب ٹھیک ہے،کتاب تیار ہوئ ،پہلی جلد چھپ گئی،حضرت کی خدمت میں پیش کیا،تو اپنی تپائ  پر رکھ لیا ،چھ ماہ بعد میرا دیوبند جانا ہوا تو کتاب وہیں پر رکھی ہوئی تھی،کہنے لگے قیلولہ کے وقت اسے پڑھتا ہوں ،پھر فرمایا کہ تحویل قبلہ کی بحث اس میں بہت اچھی آئ ہے،رطب ویابس سے پرہیز کیا  ہے،اچھا کیا،پھر ایک دوسری جگہ نکالی  اور فرمایا کہ یہ تعبیر صحیح نہیں ہے،پھول چڑھانا ہر حال میں تعبدی کے لئے استعمال ہوتا ہے ،یہاں پر پھول ڈالنا لکھنا چاہیے،حضرت اپنی  ساری مشغولیت کے باوجود اتنی باریک نگاہی سے ہم جیسے شاگردوں کی تحریروں کو پڑھ کر اصلاح فرمایا کرتے تھے۔

میں جن دنوں مدرسہ احمدیہ ابا بکرپور ویشالی میں تھا ،مدرسہ نے پچھتر سال پورے کرلئے تو ڈائمنڈ جوبلی  کے طور پر ایک تقریب کے انعقاد کا فیصلہ ہوا،اس تقریب میں شرکت کے لئے دعوت کی غرض سے حضرت کی خدمت میں میری حاضری ہوئی،حضرت ان دنوں حجۃ اللہ البالغہ کی شرح رحمتہ اللہ الواسعۃ لکھنے میں مشغول تھے،میری دعوت پر فرمایا کہ نہیں جاؤں گا،ایک گھنٹہ تقریر ہوگی ،تین دن سفر میں جائے گا اور شرح کا کام رک جائے گا،اس جواب نے مجھے مایوس کیا ،میرے دیوبند کے ہر سفر میں حضرت کا معمول تھا کہ ایک وقت دعوت کرتے تھے،ایک سفر سے دوسرے سفر تک جتنی کتابیں حضرت کی چھپی ہوتیں وہ سب ہدیہ کرتے ،پھر ایک لفافہ بھی دیتے جس میں سفر خرچ کے طورپر کچھ رقم ہوتی،چلنے لگا تو فرمایا کہ کل دن کے کھانے پر آجانا ،میں نے بجھے دل سے کہا کہ ٹھیک ہے،اگلے دن کھانے پر حاضری ہوئی تو کہنے لگے ایک شرط پر میں تمہارے یہاں جاؤں گا ،میں نے فوراً کہا کہ حضرت ! استاذ شاگرد میں شرط نہیں چلے گی،آپ جو کہیں گے وہ میں کروں گا ، آپ جائیں یا نہ جائیں،فرمایاکہ حجۃ اللہ البالغہ کے جتنے قلمی نسخے پاۓ جاتے ہیں اس کی فوٹو کاپی میں نے حاصل کرلی ہے،صرف خدا بخش والا نسخۂ دستیاب نہیں ہوسکاہے،میں نے وہاں کے کئ ذمہ داروں کو لکھا ،لیکن کامیابی نہیں ملی،تم یہ نسخہ اوپر کرو، میں آؤں گا،میں نے کہا کہ کوشش کروں گا ،چنانچہ بڑی کوشش کے بعد میں نے اس نسخہ کی مائیکرو فلم حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی،حضرت کی خدمت میں بھیجا ،بڑی دعائیں ملیں،حضرت پروگرام میں تشریف لائے،ڈیڑھ گھنٹہ تقریر فرمائی،واپسی میں میرے کہنے پر میرے قائم کردہ مدرسہ معھد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی سراۓ ویشالی بھی تشریف لے گئے،وہ زمانہ بالکل ابتدائی تھا،مدرسہ میں بیت الخلاء اور پیشاب خانہ بھی نہیں بنا ہوا تھا،حضرت نے خفگی کا اظہار کیا ، میں نے حضرت کے جانے کے بعد پہلی فرصت میں اس کام کو کرایا ۔

رحمۃاللہ الواسعۃ مکمل ہوئی ، اس کی پہلی جلد چھپ کر آئ تو اس میں حضرت نے میری اس خدمت کا ذکر کیا ،جو میرے لئے باعثِ سعادت اور سند ہے،آج جبکہ علمی استحصال کا عام مزاج بن گیا ہے،لوگ پوری پوری تصنیفات دوسروں کی اپنے نام سے چھپوا دے رہے ہیں،حضرت کا یہ عمل لائق تقلید بھی ہے اور قابل تحسین بھی۔

افتاء کے سال میں میرا حضرت کے گھر اندرون کوٹلہ دیوبند بہت جانا ہوتا تھا،حضرت مطالعہ میں مشغول ہوتے اور ہم لوگ بھی ان کی لائبریری سے استفادہ کرتے ،حضرت کثیرالعیال تھے ،لیکن کبھی بھی بچوں کے رونے کی آواز گھر سے نہیں آتی تھی،میں نے کہا کہ حضرت ہم لوگوں کے یہاں تو بچے روروکر جان عاجز کردیتے ہیں،یہاں کوئی آواز ہی نہیں آتی،کہنے لگے نظام الاوقات ایسا بنا ہوا ہے کہ چھوٹا بچہ ہمیشہ گود میں ہی رہتا ہے،پھر کیوں روۓ گا،فرمایا:اسی لئے میں مہمانوں تک کو کہہ دیتا ہوں کہ میرے یہاں دن کے کھانے کا وقت اتنے بجے اور رات کے کھانے کا وقت اتنے بجے ہے،اس کی پابندی ضروری ہے،فرمایا کہ وقتی طورپر یہ بات ذرا گراں گزرتی ہے ،لیکن اگر اس کے خلاف ہوتو میرا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
گھریلو زندگی میں بھی بیوی بچوں کی بڑی رعایت کرتے تھے،ان کی تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند کے اچھے طلبہ کو اتالیق رکھتے تھے اور اپنی نگرانی میں ان سے پڑھوایا کرتے تھے،مولانا خورشید احمد گیاوی اور مولانا اشتیاق احمد صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند بھی حضرت کے بچوں کے اتالیق رہے اور پڑھانے کی تربیت حضرت کی زیر نگرانی حاصل کی ،آج یہ دونوں دارالعلوم دیوبند کے کامیاب ترین استاذ ہیں۔
عید میں تو میں گھر چلا آتا تھا،لیکن پورے دورطالب علمی میں عیدالاضحیٰ دیوبند میں ہی گزارتا ،ایک سال ہم لوگ قربانی کے دن حضرت کے گھر پہونچے ،حضرت نے روٹی کلیجی سے ضیافت فرمائ،ہم کئ لوگ تھے،ظاہر ہے کلیجی کی مقدار ہی کیا ہوتی ہے ،حضرت نے صاحب زادہ سے کہا کہ اماں سے پوچھو ،ہم لوگوں کے حصہ میں اور ہے ؟گھر سے جواب آیا نہیں ،اب آپ لوگوں کے حصہ کا نہیں ہے،فرمایا:خصی بچے پالتے ہیں اور کلیجی سب بڑے اڑاڈالتے ہیں،اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ بچے محروم نہ رہیں،کیوں کہ ان کا بھی حق اور حصہ ہے۔
پھر فرمایا کہ گھر کی عورتوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے ،ہم لوگوں کی حالت یہ ہے کہ خالی برتن باربار اندر بھیجتے رہتے ہیں،عورتیں اپنے حصے کا بھی جو تھوڑا بہت رہتا ہے،بھیج دیتی ہیں،اور ان کی قسمت میں دیگچی پوچھنا ہی آتا ہے،یہ زیادتی ہے ،سالن جتنا لاۓ ہو تمہارے علم میں ہے،پھر بار بار خالی برتن کیوں بھیجتے ہو،ختم ہوگیا تو ہوگیا،عورتوں کو محروم نہ کرو یہ بڑی زیادتی کی بات ہے۔
ایک بقرعید کے موقع سے دیکھا کہ کباب خودہی لگا رہے ہیں،ہم لوگ بھی جاپہونچے تو کچھ سیخ ہم لوگوں کو دیتے اور کچھ اپنے بچوں سے کہتے کہ اماں کو دے آؤ،اہلیہ نے ان کا بڑا ساتھ دیا ان کے انتقال سے حضرت ٹوٹ کررہ گئے تھے،دوجوان بچوں کا جنازہ بھی انہیں اٹھانا پڑا جو ان کی صحت کو کھوکھلا کرگیا،لیکن راضی برضاء الہی کے قائل بھی تھے اور عامل بھی،اس لئے آگ اندر اندر سلگتی تھی،لیکن اس کی تپش دوسرے یاتو محسوس نہیں کرتے تھے یاکم کرتے تھے۔
حضرت کی محبت و شفقت کا دائرہ مجھ ہی تک نہیں میرے متعلقین تک پھیلا ہوا تھا،میرے عزیز شاگرد ہیں اظہار الحق قاسمی جب دارالعلوم میں زیر تعلیم تھے،ایک بار میں نے تعارف کرا دیا تو وہ پوری توجہ اور شفقت کے مستحق ہوگئے،میرے دولڑکے محمد نظر الہدیٰ قاسمی اور ظفر الہدیٰ قاسمی کا بھی وہ خیال رکھتے تھے،پہلی بار جب ان دونوں کو ملانے لے گیا تو ظفر الہدیٰ رومال سے داڑھی ڈھانپے ہوئے تھے فرمایاکہ اس طرح داڑھی وہ لپیٹتا ہے جو داڑھی کاٹتا ہے، ظفرالہدی نے جلدی سے رومال ہٹایا تب انہیں یقین ہوا کہ معاملہ گڑبڑ نہیں ہے،حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بڑی خصوصیات میں ان کا تحقیقی ذوق ،نظام الاوقات کی پابندی،علمی کاموں میں انہماک،صاف صاف اپنی باتیں کہہ گذرنا اور بلاخوف لومۃ لائم کہنا قابل ذکر ہیں،صدسالہ کے سال الہ آباد کے ایک بزرگ دیوبند تشریف لائے،حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے  بیان کیا کہ میں نے خواب دیکھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دس روپے اجلاس صد سالہ کے لئے دیا ہے،اور صبح جب میں اٹھا تو بعینہٖ یہ دس کا نوٹ تکیہ کے نیچے موجود تھا،حضرت مہتمم صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دارالحدیث میں ان کے استقبال میں جلسہ کیا اور فرمایا کہ موصوف صاحب نسبت بھی ہیں،اور اہل دل بھی،پھر فرمایاکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت زیادہ بھی دے سکتی تھیں،لیکن دس روپے دینے کا مطلب ہے کہ امت کا غریب سے غریب شخص بھی اس اجلاس کے مالی تعاون میں حصہ لے سکے،پھر جو دس روپے کی بارش شروع ہوئ تو کئی ہزار روپے جمع ہوگئے،اور مہینوں یہ سلسلہ جاری رہا،میں خود اس مجلس میں شریک تھا،حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ بھی شریک تھے،وہ اجلاس کے بعد اٹھ کرکتب خانہ چلے گئے ،رات بھر تعبیر خواب کی کتابوں کو کھنگالتے رہے،اور بالآخر صبح دم اس نتیجے پر پہونچے کہ خواب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روپے دے سکتی ہیں،لیکن وہ روپے بیدار ہونے کے بعد سرہانے موجود رہے یہ صحیح نہیں ہے،انہوں نے تمام حوالہ جات کے ساتھ یہ بات حضرت مہتمم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے رکھدی،حضرت نے سکوت اختیار کیا۔
مباحث فقہیہ اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے سیمیناروں میں بھی ان کا فقہی نقطۂ نظر سامنے آتا تھا جو ان کے گہرے مطالعہ اور فقہی جزئیات پر ان کی باریک نگاہی کا مظہر ہوتا، امدادالفتاوی پر ان کا قیمتی حاشیہ بھی ان کی فقہی بصیرت کا آئینہ دار ہے،بعض موقعوں سے تو یہ بھی دیکھنے میں آیاکہ تجویز تیار ہوگئی،خواندگی ہورہی ہے کہ حضرت پہونچ گئے،اب جو حضرت نے گفتگو شروع کی ،حوالہ جات منگواۓ گئے تو وہ بنیاد ہی ڈھہ گئ جس پر تجویز کی عمارت کھڑی کی گئی تھی،ایک موقع سے جب دہلی میں جمعیتِ علماء نے تحفظ ختم نبوت کا اجلاس منعقد کیا تو ایک صاحب نے قادیانیوں کے کفر سے متعلق تجویز کی خواندگی کی ،اناؤنسر نے تجویز کی تائید کے لئے حضرت مفتی صاحب کا نام پکارا،حضرت نے فرمایا کہ یہ تو اللہ کا فرمان ہے،اس کی تائید بندہ کیا کرے گا ،یہ عجیب و غریب بات ہے ۔ اس کے بعدجو حضرت نے قرآن وحدیث کے حوالے سے اس پر گفتگو شروع کی تو مجمع عش عش کررہا تھا۔
اس موقع پر حضرت کے بعض ملفوظات کا ذکر کرنا افادہ سے خالی نہیں،فرمایا:تمہارے دشمن بازار میں تمہارا مذاق اڑائیں اس سے بہتر ہے کہ دوستوں کے ذریعہ تمہاری اصلاح ہوجائے،فرمایا کرتے کہ بہت سے لڑکے مدرسے میں پڑنے کے لئے آجاتے ہیں علم پڑھنے سے آتا ہے پڑنے سے نہیں،دس سال مسلسل پڑھوگے تو دس سال کے بعد کتاب سے علم نکلتا ہوا دکھائی دے گا،اس قسم کے بہت سارے ملفوظات ہیں ،جن کو جمع کردیا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجاۓ،اس مختصر سے مضمون میں ان سب کے ذکر کی نہ توگنجائش ہے اور نہ ہی موقع۔
بات لمبی ہوگئ  اور حضرت کی تدریسی خصوصیات پر گفتگو نہیں آسکی ، جو حضرت کا اصل میدان تھا واقعہ یہ ہے کہ تدریسی کتابوں کے متن کی ایسی تشریح جو طلبہ کے ذہن و دماغ کو روشن کردے ،ان کی تدریس کی اہم خصوصیت تھی ،اسی وجہ سے ان کا درس دارالعلوم میں مقبول ترین تھا اور بہت کاہل طالب علم بھی ان کے درس میں بیٹھنا اپنے لئے  باعث سعادت سمجھتا تھا۔

حدیث میں آتا ہے کہ قرب قیامت علم اٹھ جائے گا،مطلب یہ بیان کیا گیا کہ اہل علم اٹھتے جائیں گے،جس تیزی سے اہل علم اٹھتے جارہے ہیں اس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ قیامت قریب ہے،اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے ،سئیات سے درگذر کریں،اور پس ماندگان کو صبر جمیل بخشے، شاعر کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔

ستارے ٹوٹتے رہتے ہیں شب و روز
غضب تو یہ ہے کہ اب آفتاب ٹوٹاہے

(مضمون نگار امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ جھاڑکھنڈکے نائب ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم اعلیٰ اور ہفت روزہ نقیب کے مدیر ہیں)

Post Top Ad

Your Ad Spot