Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, May 9, 2020

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا : کورونا وائرس لے کر آئی نفرت کی سونامی ، لوگوں سے کی یہ بڑی اپیل

اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس نے کہا کہ کورونا وائرس کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کون ہیں ، ہم کہاں رہتے ہیں اور ہم کس پر یقین رکھتے ہیں ۔
صداٸے وقت /ذراٸع / ٩ مٸی ٢٠٢٠۔
==============================
کورونا وائرس کو لے کر پوری دنیا کے رویہ پر اقوام متحدہ کے سربراہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس نے کہا کہ کورونا وائرس کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم کون ہیں ، ہم کہاں رہتے ہیں اور ہم کس پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کرکے کہا کہ عالمی وبا کی وجہ سے نفرت ، غیر ملکی لوگوں کو ناپسند کرنے ، دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے اور خوف کا ماحول بنانے جیسے واقعات کا سیلاب آگیا ہے ۔ اقوام متحدہ سربراہ نے کہا کہ میں دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نفرت کی باتیں کرنا بند کردیں ۔
اینٹونیو گٹیرس نے کہا کہ ہمیں اس طرح کی چیزوں کو بند کرنے کی پرزور کوشش کرنی چاہئے ۔ کسی ملک کا نام لئے بغیر اقوام متحدہ سربراہ نے کہا کہ اس عالمی وبا کی وجہ سے نفرت اور دہشت پھیلانے کے معاملات بڑھے ہیں ۔ انٹرنیٹ سے لے کر سڑکوں تک ایسے معاملات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ یہودیوں کے خلاف سازشیں بڑھی ہیں ، اس کے ساتھ ہی مسلم مخالف حملے بھی ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مہاجروں اور پناہ گزینوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہیں وائرس کا ذریعہ بتاکر ان کی بے عزتی کی جارہی ہے ۔ تشویش کی بات ہے کہ انہیں علاج سے بھی محروم رکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نفرت آمیز میم بنائے جارہے ہیں ۔ کورونا وائرس کو لے کر سن رسیدہ افراد کی حالت زیادہ تشویشناک ہے ۔ وہ بلی کا بکرا بنائے جارہے ہیں ۔
اقوام متحدہ سربراہ نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں کورونا وائرس کو لے کر کام کررہے صحافیوں ، وہیسل بلوورس ، ہیلتھ ورکرس اور انسانی حقوق کے کارکنان کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، جس کو روکا جانا چاہئے ۔ انہوں نے اپیل کی کہ نفرت والے بیانات کو روکنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ خاص کر تعلیمی اداروں کو اس سمت میں کام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل تعلیم یافتہ بنانا چاہئے ، کیونکہ انہیں جلد ہی مایوسی اپنی زد میں لے 

Post Top Ad

Your Ad Spot