Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, June 29, 2020

کورونا ‏مریضوں ‏کی ‏تعداد ‏میں ‏اضافہ ‏کیوں ‏؟ ‏ ‏ایک ‏تجزیاتی ‏تحریر۔



تحریر / مسعود انور
جون 27, 2020، جسارت(صداٸے وقت ).
=============================
کورونا گزشتہ نومبر میں دنیا میں پھیلنا شروع ہوا اور اسے مارچ میں عالمی وبا قرار دے دیا گیا ۔ پاکستان میں پہلے کیس کی نشاندہی 26 فروری کو ہوئی ۔ اس دن سے لے کر آج تک ملک میں خوف کا ماحول پیدا کردیا گیا ۔ خوف کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عام شہری کورونا کا ٹیسٹ کروانے اور اس کا علاج کروانے پر ہی تیار نہیں ہے ۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں لوگ خودکشی تک کررہے ہیں ۔ کورونا کے مریضوں کے نام پر اب تک ملک میں پانچ سو ارب روپے کی رقم مجموعی طور پر خرچ کی جا چکی ہے جبکہ صرف وفاقی بجٹ میں کورونا کے لیے 1200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ صوبوں کی جانب سے سیکٹروں ارب روپے اس کے علاوہ الگ سے مختص کیے گئے ہیں ۔ کورونا کے مریضوں کو فراہم کردہ سہولیات کی صورتحال کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ نہ تو کہیں پر کوئی نیا اسپتال بنایا گیا اور نہ ہی کسی بھی اسپتال میں موجودہ سہولیات میں کوئی اضافہ کیا گیا ۔ پاکستان میں پہلے ہی صحت کی سہولتیں ناگفتہ بہ اور ناکافی ہیں ۔ دل کے اسپتال سے لے کر بچوں کے اسپتال تک عام دنوں میں ہی کوئی چلا جائے تو مریضوں کو داخلے کے لیے بستر دستیاب نہیں ہوتا تھا ۔ آپریشن کے لیے کئی مہینوں بعد کی تاریخ ملتی تھی ۔ وینٹی لیٹر کا تو پہلے بھی کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا ۔ اب کورونا کے مریضوں کا اضافہ ہوا تو کہا گیا کہ مریضوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ سارے اسپتال بھر گئے ہیں جبکہ عملی صورتحال یہ رہی کہ یہ سارے اسپتال پہلے سے ہی بھرے ہوئے ہیں ۔ فنڈز کھانے کی اس بہتی گنگا میں سب نے ہی خوب ہاتھ دھوئے ۔ بلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نام پر کراچی میں آصف زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین کے ضیاءالدین اسپتال کو دو سو مریضوں کے علاج کے لیے کروڑوں روپے ایڈوانس میں ادا کردیے گئے ۔ دیگر اسپتالوں کو اس مد میں ادا کیے جانے والے دسیوں ارب روپے اس کے علاوہ ہیں ۔ فنڈز کھانے کے نام پر اسکولوں اور کالجوں میں کاغذات پر گھوسٹ قرنطینہ مراکز قائم کردیے گئے ۔ ان قرنطینہ مراکز کی صورتحال کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی ایکسپو میں قائم کردہ آرمی قرنطینہ مرکز پہلے ایک ہزار بستروں پر مشتمل تھا ، اسے اب بڑھا کر 1500 بستروں کا کردیا گیا ہے جبکہ عملی طور پر یہاں مریضوں کی تعداد ایک مرتبہ بھی دو سو نہیں ہوئی ۔ پی اے ایف میوزیم میں پانچ سو بستروں کا قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے ، جس میں ایک مریض بھی داخل نہیں ہے ۔ سہولیات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایکسپو کے آرمی قرنطینہ مرکز میں کھانا بھی خیراتی تنظیمیں مہیا کررہی ہیں ۔
یہ تو ایک عمومی صورتحال ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے اور کورونا کے ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، اس کے ساتھ ہی کورونا کے مریضوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ کورونا کے مریض تو بڑی تعداد میں ہیں ، چونکہ ان کا ٹیسٹ نہیں ہورہا تھا اس لیے ان کی نشاندہی نہیں ہوسکی تھی ۔ اب ٹیسٹ ہورہے ہیں تو ان کی نشاندہی ہورہی ہے ۔ جیسے جیسے ٹیسٹ کرنے کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا ، ویسے ویسے ان مریضوں کی تعداد میں بھی ہولناک اضافہ دیکھنے میں آئے گا ۔ سرکار کے مطابق 15 جولائی تک پاکستان میں کورونا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ایک لاکھ ٹیسٹ یومیہ ہوجائے گی ۔ اگر ٹیسٹ کے تناسب سے مریضوں کی تعداد نکالی جائے تو یہ بیس تا پچیس فیصد کے قریب ہے ۔ اگر بیس فیصد کو ہی بنیادی عدد مان لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ یومیہ بیس ہزار مریضوں کا اضافہ ۔ 31 اگست تک 48 دن بنتے ہیں ۔ ان 48 دنوں میں 20 ہزار مریض یومیہ کے حساب سے 31 اگست کی شب تک ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں 9 لاکھ 60 ہزار مریضوں کا اضافہ ہوچکا ہوگا ۔ اب تک کورونا کے مریضوں میں اموات کی شرح 2 فیصد ہے ، اس لحاظ سے مرنے والوں کی تعداد کا تخمینہ 9 ہزار 2 سو آتا ہے یعنی چارسو مریض روزانہ کورونا کی وجہ سے موت کا شکار ہوں گے ۔ یہ وہ حساب ہے جو کوئی بھی کرسکتا ہے ۔

کیا واقعی ایسا ہے کہ ملک میں کورونا کے مریض خاموشی سے کہیں پر دبکے ہوئے ہیں اور ان کی نشاندہی نہیں ہوپارہی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اب تک پورا ملک کورونا کے مرض میں مبتلا ہوچکا ہوتا ۔ کیوں کہ ان مریضوں کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے اور یہ Free Satellite کے طور پر آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں ، تو یہ آسانی سے دیگر صحتمند افراد کو بھی اس بیماری کا شکار کرسکتے ہیں مگر عملی طور پر ایسا ہے نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کے تشخیص شدہ مریضوں میں اموات کی شرح 2 فیصد ہے تو ان غیر تشخیص شدہ مریضوں کی تعداد بھی کم از کم اس شرح سے تو موت کا شکار ہوتی مگر ایسا بھی نہیں ہے بلکہ قبرستانوں سے جمع کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ چار ماہ میں تدفین میں معمول کے مقابلے میں کمی آئی ہے ۔
کورونا کے بارے میں ایک بات پر اورغور کیجیے کہ اب تک ایک خاص طبقہ اس کا شکار ہورہا ہے ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خوشحال ہے اور انتہائی حساس بھی ۔ یہ N95 ماسک بھی استعمال کرتا ہے اورعالمی ادارہ صحت کی ہر SOP پر انتہا سے زیادہ عمل بھی کرتا ہے ، پھر بھی یہ طبقہ کورونا کا بھی شکار ہورہا ہے اور کورونا سے ہونے والی اموات کا بھی ۔ پاکستان کا عام مزدور طبقہ جو خط غربت کے آس پاس زندگی گزارتا ہے ، وہ عالمی ادارہ صحت کی کسی ہدایت پر چاہے بھی توا س کے لیے عمل کرنا ممکن نہیں ہے ، وہ پہلے دن سے اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار رہا ہے ۔ ان افراد میں کورونا کا کوئی گزر نہیں ہے ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ان افراد کا جسمانی مدافعتی نظام بہت طاقتور ہے ۔ مگر اسی کم آمدنی والے طبقے میں پولیو ، ٹائیفائیڈ اور یرقان عام ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو ان بیماریوں کے وائرس بھی اس کم آمدنی والے طبقے کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گڑ بڑ کہیں اور ہے ۔ یہ گڑ بڑ کیا ہے ، اس کا جواب آئندہ کالم میں بوجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
سوال تھا کہ آخر کیا وجہ ہے چار ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان میں کورونا کا نقطہ عروج نہیں آسکا اور صرف خوشحال افراد ہی کیوں اس کا شکار ہورہے ہیں ۔ کم آمدنی والے افراد کا جسمانی مدافعتی نظام اگر اتنا ہی طاقتور ہے کہ کورونا اس کا کچھ نہیں بگاڑ پارہا تو ٹائیفائیڈ ، یرقان اور پولیو کیوں اسی طبقے میں عام ہیں ۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مذکورہ تینوں بیماریاں خراب پانی کی وجہ سے پھیلتی ہیں اور چونکہ اس طبقے کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے اس لیے وہ ان بیماریوں کے exposure میں ہوتا ہے اور یوں وہ ان بیماریوں کا مسلسل شکار رہتا ہے ۔ یہاں سے ہم دوسرا نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ خوشحال طبقہ اس لیے کورونا کا شکار ہے کہ وہ اس کے exposure میں ہے اور کم آمدنی والا طبقہ اس لیے کورونا کا شکار نہیں ہے کہ وہ اس کے exposure میں نہیں ہے ۔
گفتگو آگے بڑھانے سے قبل ایک وضاحت ۔ دنیا بھر میں فارما انڈسٹری ایک مافیا کا روپ دھار چکی ہے ۔ کسی کو علم نہیں ہے کہ اس فارما انڈسٹری کے مالکان کون ہیں ۔ 1918 میں پھیلے گئے فلو کی وبائی صورتحال میں بھی یہ فارما انڈسٹری اتنی ہی متحرک تھی اور نپولین کی پوری فوج کو کئی طرح کی ویکسین لگائی گئی تھیں ۔ یہ گاڈ فادر کس طرح سے تخمینہ لگاتے ہیں ، اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ انہوں نے کہا کہ چین کی آبادی سوا ارب افراد پر مشتمل ہے ۔ ان میں سے نصف نے بھی ایک سگریٹ روزانہ پیا تو اس کا مطلب ہے تو 65 کروڑ سگریٹوں کی یومیہ کھپت ۔ اب تو ثابت ہوچکا ہے کہ شوگر اور کینسر جیسے امراض انسانی کارنامہ ہیں ۔ صرف ان ہی دو امراض میں مبتلا مریضوں سے یہ انڈسٹری اربوں ڈالر یومیہ کماتی ہے ۔ کمائی کا یہ تناسب اسلحہ سازی اور پٹرولیم سمیت کسی اور انڈسٹری میں نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کمپنیاں روز ایک نئی بیماری اسی طرح وجود میں لاتی ہیں جس طرح کمپیوٹر کا وائرس ۔ پہلے کمپیوٹر کا وائرس بنایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اینٹی وائرس کا پروگرام ۔ جیسے ہی وائرس لانچ ہوتا ہے ، پوری دنیا کے زرخرید میڈیا میں شور مچ جاتا ہے اور پھر آئندہ ہفتے ہی کمپیوٹر کا سافٹ ویئر بنانے والی مائکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں فخر سے اعلان کرتی ہیں کہ انہوں نے اس کا علاج ڈھونڈھ لیا ہے اور اب مارکیٹ میں نیا اینٹی وائرس سافٹ ویئر دستیاب ہے ۔
ایڈز، ایبولااور زیکا جیسے وائر س جدید دنیا میں ہی متعارف کروائے گئے ۔ ایڈز کے بارے میں کہا گیا کہ اسے عالمی ادارہ صحت کے پولیو کے قطرے پلانے والے پروگرام کے ذریعے افریقا میں پھیلایا گیا ۔ گو کہ عالمی ادارہ صحت نے بعد میں اس کی نیم دلی سے تردید کی ۔ چونکہ پولیو کے مذکورہ قطروں کی کہیں پر بھی کسی آزاد لیبارٹری میں جانچ نہیں کی گئی اس لیے ہمارے پاس کوئی غیر جانبدار اور آزاد ذریعہ نہیں ہے جو یہ بتاسکے کہ تردید حقیقی تھی یا یہ بھی محض جھوٹ تھا ۔ زیکا وائرس کے بارے میں فروری 2016 میں پانچ آرٹیکلوں پر مشتمل ایک سیریز میں نے سپرد قلم کی تھی جو میری ویب سائیٹ http://www.masoodanwar.wordpress.com پر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں ۔

زیکا وائرس ایک ایسی بیماری تھی جس کے نتیجے میں چھوٹے سر والے ذہنی طور پر اپاہج بچوں کی پیدائش عمل میں آرہی تھی ۔ کہا گیا کہ یہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے ۔ بعد میں تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ جن حاملہ خواتین کو خناق، تشنج اور دیگر بیماریوں سے بچاو کے لیے تیارہ کردہ ویکسین TDaP لگائی گئی ، انہی کے ہاں اپاہج بچے پیدا ہوئے ۔ یہ ویکسین تیار کی تھی فرانس کی Sanofi Pasteur اور برطانیہ کی GSK نے ۔ جیسے ہی مذکورہ ویکسین کا استعمال ترک کیا گیا ، دنیا سے زیکا وائرس غائب ہوگیا اور اب کسی کو یاد بھی نہیں ۔ یہ بات کئی دفعہ ثابت ہوچکی ہے کہ نیسلے جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جو غذائی مصنوعات تیار کرتی ہیں ، وہ افریقا میں جراثیم پھیلانے میں ملوث رہی ہیں ۔ اسی طرح یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے زیر انتظام چلنے والے ویکسین پروگرام کے ذریعے ہی افریقا میں خوفناک وائرس پھیلائے گئے ، یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ادویہ ساز کمپنیوں نے لیبارٹریوں میں باقاعدہ جراثیم بنائے یا پہلے سے موجود جراثیموں میں جینیاتی تبدیلیاں کیں اور پھر انہیں باقاعدہ افریقا میں لانچ کیا گیا ۔ ملیریا پھیلانے والے مچھر بھی اور ملیریا کے مچھروں کا خاتمہ کرنے والے مچھروں کے نام پر نئی بیماریاں پھیلانے والے مچھر بھی ان ہی ادویہ ساز کمپنیوں نے لانچ کیے ۔ ان سب میں ایک اور قدر مشترک ہے کہ عمومی طور پر بیماری پھیلانے والے ان وائرسوں کی تحقیق اور تیاری کے لیے فنڈز فراہم کرنے والا ادارہ ملنڈا ینڈ بل گیٹس فاونڈیشن ہی تھا ۔
دوبارہ سے اصل مدعا کی طرف آتے ہیں کہ پاکستان میں ایک خاص طبقہ ہی کیوں کورونا کا شکار ہے اور کیا وجہ ہے کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کورونا کا نقطہ عروج نہیں آسکا ہے ۔ اس کا جواب بوجھنے سے قبل ایک اطلاع ۔ چین نے گزشتہ ہفتے ہی امریکا کی پیپسی کمپنی کو چین میں پیپسی تیار و فروخت کرنے اور امریکا سے برائلر مرغی کی درآمد پر فوری طور پر پابندی عاید کردی ہے ۔ پیپسی کی تیاری اور مرغی کی درآمد پر اس پابندی کا امریکا اور چین کے مابین معاشی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ پابندی چین میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کے تناظر میں لگائی گئی ہے ۔ اب دوبارہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں کہ کم آمدنی والا طبقہ پولیو ، گیسٹرو ، یرقان اور ٹائیفائیڈ جیسے وائرسوں کا اس لیے مقابلہ نہیں کر پاتا کہ وہ ان وائرسوں کے مسلسل exposure میں ہے ۔ یہ خوشحال طبقہ کولڈ ڈرنک بھی پیتا ہے ، ان ہی کمپنیوں کا منرل واٹر بھی استعمال کرتا ہے ، فاسٹ فوڈ بھی کھاتا ہے ۔ یہ سب کچھ کم آمدنی والے طبقے کو دستیاب نہیں ہے ۔
کیا ہی بہتر ہو کہ اس ضمن میں چین سے معلومات حاصل کی جائیں ، ان مصنوعات کی خود ہی کسی لیبارٹری میں جانچ کروائی جائے اور سب سے بڑھ کر تنزانیہ کی طرح کورونا ٹیسٹ کرنے والی kits کی جانچ کی جائے کہ آخر 20 فیصد کے قریب نتائج لازمی طور پر کیوں مثبت آتے ہیں ۔ ابھی تک یہ بات ثابت ہے کہ کورونا کے مثبت اور منفی دونوں نتائج قابل اعتبار نہیں ہیں ۔ تو پھر اس پر ڈاکٹروں ، فارماسسٹ یا مائیکروبیالوجسٹ کی کوئی تنظیم کام کیوں نہیں کرتی ۔ بہتر ہوگا کہ عالمی سازش کاروں کا آلہ کار بننے کے بجائے وجوہات پر غور کیا جائے ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔ جون 27, 2020
hellomasood@gmail.com
http://www.masoodanwar.wordpress.com
https://www.jasarat.com/2020/06/27/200627-

Post Top Ad

Your Ad Spot