Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, July 10, 2020

آٸی ‏پی ‏ایس ‏انوراگ ‏ٹھاکر ‏کا ‏شک ‏سچ ‏ثابت ‏ہوا۔وکاس ‏دوبے ‏کا ‏انکاٶنٹر ‏طے ‏شدہ ‏تھا۔

صداٸے وقت / ١٠ جولاٸی ٢٠٢٠۔
=============================
کانپور میں 8 پولس اہلکاروں کے قتل معاملہ میں اہم ملزم گینگسٹر وکاس دوبے آج کانپور میں پولس تصادم کے دوران مارا گیا۔ کانپور لانے کے دوران وکاس دوبے کا مبینہ طور پر بھاگنا اور اس کے بعد اس کا انکاؤنٹر میں مارا جانا یو پی پولس پر کئی طرح کے سوال کھڑے کر رہا ہے۔ اپوزیشن نے بھی اس طرح کے سوال کیے ہیں کہ اس انکاؤنٹر سے کسے بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ انکاؤنٹر کو لے کر پہلے سے ہی یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اس کا ثبوت آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر کا وہ ٹوئٹ ہے جو اب کافی تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے۔
آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر نے ایک دن پہلے ہی بتایا تھا کہ وکاس دوبے گرفتار ہو چکا ہے اور اب وہ کس طرح مارا جائے گا۔ انھوں نے جمعرات کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا "وکاس دوبے کا سرینڈر ہو گیا۔ ہو سکتا ہے کل وہ یو پی پولس کی حراست سے بھاگنے کی کوشش کرے، مارا جائے۔ اس طرح وکاس دوبے چیپٹر کلوز ہو جائے گا، لیکن میری نگاہ میں اصل ضرورت اس واقعہ سے سامنے آئی کہ یو پی پولس کے اندر کی گندگی کو ایمانداری سے دیکھتے ہوئے اس پر غیر جانبدارانہ اور سخت کارروائی کرنا ہے۔”اب امیتابھ ٹھاکر کا یہ ٹوئٹ سوشل میڈیا پر بہت تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے۔ اس ٹوئٹ کو لوگ ری ٹوئٹ تو کر ہی رہے ہیں، ساتھ ہی اتر پردیش پولس پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔ چونکہ گزشتہ ایک دو دنوں میں وکاس دوبے کے انکاؤنٹر کی ہی طرح اس کے کچھ ساتھیوں کا بھی انکاؤنٹر ہوا، اس لیے لوگ یو پی پولس کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ 
بہر حال، وکاس دوبے کے انکاؤنٹر کے بعد امیتابھ ٹھاکر نے آج ایک اور ٹوئٹ کیا اور پولس کے سامنے ایک تلخ سوال رکھ دیا۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "اتنی کیا ہڑبڑی تھی؟ کسے بچایا جا رہا ہے؟” ان دو چھوٹے سوالوں کے ذریعہ امیتابھ ٹھاکر نے یو پی پولس کو پوری طرح سے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کانپور ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 38 کلو میٹر دور چوبے پور تھانہ حلقہ کے گاؤں بکرو میں گزشتہ جمعہ (3-2 جولائی کی شب) کو وکاس دوبے کو پکڑنے کے لیے پولس ٹیم پہنچی تھی۔ اس دوران وکاس اور اس کے ساتھیوں نے پولس پر حملہ کر دیا تھا جس میں سی او اور ایس او سمیت 8 پولس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی وکاس دوبے کی گرفتاری کے لیے اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں کی پولس الرٹ پر تھی۔ جمعرات کی صبح اجین کی پولس نے مہاکال مندر سے وکاس دوبے کو گرفتار کیا تھا اور آج اسے یو پی پولس کے حوالے کر دیا۔ لیکن مبینہ طور پر کانپور میں وکاس دوبے کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو گئی اور وہ فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کرنے لگا جس کے پیش نظر پولس کی جوابی فائرنگ میں وہ ہلاک ہو گیا۔
اس معاملے کو لیکر لکھنٶ سے دہلی تک کی سیاست تیز ہوگٸی ہے ۔سماجوادی پارٹی کےقومی صدر اکھلیش یادو ، بی ایس پی سپریمو مایاوتی ، کانگریس پارٹی و سماج کے دیگر سرکردہ افراد نے اس انکاٶنٹر پر سوال اٹھاٸے ہیں ۔۔۔اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ کچھ لوگوں کے بچانے کے لٸے کیا گیا ہے ۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ اس انکاونٹر کی جوڈیسری انکواٸری ہونی چاہٸے۔۔۔کانگریس نے بھی پورے واقعے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot