Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, July 14, 2020

آج ‏بھی ‏شر ‏پسند ‏عناصر ‏میں ‏پولیس ‏کا ‏کوٸی ‏خوف ‏نہیں۔۔۔دارالحکومت ‏لکھنٶ ‏میں ‏چل ‏رہی ‏ہیں ‏سرے ‏عام ‏گولیاں۔


لکھنٶ۔۔۔اتر پردیش /صداٸے وقت /ذراٸع / 14 جولائی ، 2020
==============================
 ریاست کے بدنام زمانہ بدمعاش وکاس دوبے انکاؤنٹر کیس کے بعد بھی بدمعاشوں میں پولیس کا خوف ظاہر نہیں ہوتا ہے۔  جرائم پیشہ افراد آج بھی مجرمانہ سرگرمیاں کرکے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔  پیر کے روز دارالحکومت لکھنؤ  موٹرسائیکل سواروں کی گولیوں کی بوچھار سے لرز اٹھا۔  عالم باغ میں ، کالے  رنگ کی لگژری کار میں سوار لوگوں پر دو افراد نے کھلے عام  حملہ کیا۔  معلومات کے مطابق اس دوران ڈرائیور کو تین گولیاں لگیں جس کے بعد اسے عالم باغ کے اجنتا اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
  تھانہ عالم باغ کی پولیس کا رویہ یہ تھا کہ ایس ایچ او عالم باغ کو موقعہو واردات سے بہت فون کال کی گئی لیکن انھوں نے اپنا فون بھی نہیں اٹھایا ، اسے فوری طور پر موقع پر پہنچنادیب تو دور کی بات رہی۔
 اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو کے عالم باغ پولیس اسٹیشن علاقے میں ، آج رات 8.15 بجے کے قریب دو موٹرسائیکل سواروں نے ایک گاڑی پر حملہ کیا۔  بتایا جاتا ہے کہ یہ گاڑی ریلوے ٹھیکیدار سریندر کالیا کی ہے۔  عالم باغ مارکیٹ میں شرپسندوں نے متعدد راؤنڈ فائر کیے۔  اس دوران ٹھیکیدار کے باڈی گارڈ / ڈرائیور روپ رام  کو گولی لگ گٸی۔
 اس واقعے کے بعد افراتفری مچهلی گٸی جس کا فاٸدہ اٹھاتے ہوٸے   ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔  بد معاشںوں کی گولی سے  شدید زخمی روپ رام کو فوری طور پر اجنتا اسپتال میں داخل کرایا گیا۔  ڈاکٹر کے مطابق اسے تین گولیاں لگیں ہیں۔  اجنتا کے ڈاکٹروں نے فوری طور پر زخمی کو ٹروما سینٹر ریفر کردیا۔
 اس کیس کے عینی شاہدین نے بتایا کہ شرپسندوں نے 15 سے زائد راؤنڈ فائر کیے۔  اس اطلاع کے بعد متعدد تھانوں کی پولیس  موقع پر پہنچ گئی اور تفتیش میں لگ گئی۔  سی سی ٹی وی فوٹیج سے شرپسندوں کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے ، واقعے کے بعد پولیس نے شرپسندوں کی گرفتاری کے لئے چیک ان مہم چلائی ، شرپسندوں کو پکڑنے کے لٸیے پولیس   اندھیرے میں تیر چلاتی رہی  مگر بدمعاش پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot