Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, July 6, 2020

سیاسی ‏سیر ‏کو ‏سوا ‏سیر۔۔۔۔۔۔

:از/ ڈاکٹر سلیم خان /صداٸے وقت۔
=============================
یوگی جی کی پولیس جو منہ سے ٹھائیں ٹھائیں کی آواز نکال کر عوام کو ڈراتی تھی، اس نے ایک ایسے مجرم کو جس کے پیروں میں راڈ پڑی ہے، جس کا 50 قدم چلنا مشکل ہے، اس کی گرفتاری کے لیے 50 ٹیمیں تشکیل دیں ہیں1800 سے زائد انکاؤنٹر کرنے اور سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی زندگیوں کو اجیرن کرنے والی یوگی جی کی پولیس کا پالا تین دن قبل جب شرومنی برہمن وکاس دوبے سے پڑا تو نہایت بھیانک منظر سامنے آیا۔ یہ وہی وکاس دوبے ہے جس نے 19 سال قبل بی جے پی کے ریاستی وزیر سنتوش شکلا کو دن دہاڑے پولیس تھانے میں ہی قتل کر دیا تھا۔ اس وکاس دوبے کو گرفتار کرنے کے لیے نصف شب میں پولیس دستے کو بھیجنے کی جو عظیم غلطی یوگی انتظامیہ نے کی، اس کی اسے بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ کانپور سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر بیکرو گاؤں میں جس وقت 8 پولیس اہلکاروں کا بہیمانہ قتل ہوا صوبے میں اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی کی ایسی حکومت ہے جسے وہ خود ہی آزادی کے بعد کی سب سے طاقتور حکومت قرار دیتی ہیں، اس کے باوجود وکاس دوبے کا بال تک بیکا نہیں ہوا اور وہ یہ بھیانک واردات انجام دینے کے بعد روپوش ہوگیا۔
پانچ پولیس سب انسپکٹرس اور 25 سپاہیوں کی موجودگی میں یہ جرات کی گئی مگر کسی میں اس کے خلاف شکایت کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ 2001 میں جب وکاس دوبے نے شنتوش شکلا کو پولیس تھانے میں ہی گولی ماری تھی تو منوج شکلا نے اس کا جومقدمہ درج کرایا تھا، اس میں پولیس والوں کو گواہ بنایا تھا۔ لیکن جب یہ مقدمہ عدالت پہنچا تو تمام پولیس والے اپنی گواہیوں سے مکر گئے تھے۔ اتفاق سے اس وقت بھی ریاست میں بی جے پی کی ہی حکومت تھی اور پولیس والوں کی یہ بہادری راج ناتھ سنگھ کی بی جے پی سرکار دیکھتی رہ گئی تھی۔ 2006 میں جب ریاست میں ملائم سنگھ یادو کی حکومت تھی تو وکاس دوبے نہ صرف رہا ہوگیا بلکہ تمام الزامات سے بری بھی ہوگیا۔ حکومت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو اونچی عدالت میں چیلنج تک نہیں کیا۔ ویسے اگر ایسا کیا جاتا بھی تو کیا فرق پڑتا۔ وکاس کو نچلی عدالتیں دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنا چکی ہے لیکن وہ اوپری عدالت میں اپیل کرکے ضمانت پر رہا ہو جاتا اور قتل و غارتگری کے کام کو انجام دیتا رہا۔ آخر ایسا کیوں؟ جب ہماری پولیس اور عدالتیں کمزوروں کے خلاف شیر اور طاقتور کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہیں۔

مقتول بی جے پی رہنما شنتوش شکلا کے بھائی منوج شکلا کے مطابق وکاس دوبے کی لال ڈائری میں اس کے پسندیدہ پولیس افسران کا نمبر ہوتا ہے۔ ان میں وہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہوں نے وکاس کو پولیس چھاپے کی اطلاع دی اور ان کے قتل میں بلا واسطہ شریک ہوگئے۔ پولیس کے ذرائع نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ چوبے پور تھانہ کے ایک داروغہ نے وکاس دوبے کو پولیس کارروائی کی مخبری کی تھی اور اس کے بعد بدمعاشوں نے پولیس کے آنے سے پہلے ہی گھات لگاکر حملہ کرنے کی سازش تیار کر لی۔ ایس آئی ٹی کو وکاس دوبے کے رابطہ میں رہنے والے ایک داروغہ، ایک سپاہی اور ایک ہوم گارڈ پر شک ہے۔ تینوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں تاحال ان 12 لوگوں کو حراست میں لیا گیا جنہوں نے واقعہ سے پہلے 24 گھنٹے کے اندر وکاس سے فون پر بات کی تھی۔

وکاس دوبے کے گرگوں نے جس بہیمیت کا مظاہرہ کیا اس کو دیکھ کر گلوان کے چینی فوجی بھی شرما جائیں گے۔ گزشتہ جمعرات 2 جولائی کی شب میں دیویندر مشرا کی قیادت میں شیوراج پور، چوبے پور اور بٹھور تھانے کے جوانوں پر مشتمل ٹیم نے پیش قدمی کی۔ ان کا راستہ روکنے کے لیے بیچ میں جے سی بی مشین کھڑی تھی۔ اس سے پہلے پولیس والے کچھ سمجھ پاتے آس پاس کی عمارتوں کے چھت سے جدید اسلحہ سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ بدمعاش نشانہ باندھ کر گولی چلا رہے تھے اور پولیس والوں کو دیوار کی آڑ میں چھپ کر جواب دینے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا تھا۔ یوگی جی کو یہ بتانا پڑے گا کہ ان کے راج میں بدمعاشوں کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے پہنچا اور ان کے حوصلے اس قدر بلند کیسے ہوگئے۔ کیا ان کی ساری گیدڑ بھپکی صرف کمزور عوام کے لیے ہے۔ صوبے کے بدمعاش ان سے کیوں نہیں ڈرتے؟ اس تصادم کے وقت پوزیشن لینے کے لیے پولیس افسر دیویندر مشرا دیوار پھاند کر ایک گھر کے آنگن میں کود گئے جو اتفاق سے وکاس کے ماموں کا گھر تھا۔ اس دوران پیچھے سے بدمعاشوں نے حملہ کر دیا اور دیویندر کے سر میں کئی گولیاں داغ دیں۔ ان لوگوں نے بس اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کی لاش گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے اور کلہاڑی سے ان کے پیر کو کاٹ کر الگ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق بدمعاشوں نے پولیس والوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس خوں ریز تصادم میں سب سے پہلے شیوراج پور کے سی او مہیش اور مندھنا چوکی کے انچارج انوپ سنگھ بری طرح زخمی ہوگئے۔ دونوں مدد کی گہار لگا رہے تھے کہ ان کے عقب سے حملہ ہوگیا اور انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اس کے بعد بدمعاش لاشوں کو گھسیٹتے ہوئے ایک جگہ جمع کرتے رہے۔ پانچ لاشیں ایک کے اوپر ایک رکھ دیں اور سفاکی کی ساری حدوں کو پار کرتے ہوئے لاشوں پر کئی راونڈ گولیاں چلائیں۔ اس طرح کے واقعات داعش کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا تھا لیکن اب یہی سب سبزی خور براہمن یوگی راج میں کر رہے ہیں۔

اس بہیمانہ حملے کے بعد ان کے حوصلے اس قدر بلند تھے کہ وہ جاتے جاتے پولیس کی ایک اے کے47، ایک انساس رائفل اور دوپستول اپنے ساتھ لے گئے۔ اب ان کا استعمال کس کے خلاف ہوگا ؟یہ جاننے کے لیے کسی شرلاک ہومز کی ضرورت نہیں ہے۔ یوگی جی کی پولیس جو منہ سے ٹھائیں ٹھائیں کی آوازیں نکال کر بے قصور عوام کو ڈراتی تھی، اس کا عالم یہ ہے کہ ایک ایسے مجرم کوجس کے پیروں میں راڈ پڑی ہوئی ہے اور وہ پچاس قدم بھی پیدل چلنے سے قاصر ہے، اسے پکڑنے کے لیے 50 ٹیموں کا تعین کرنا پڑا ہے۔ اس کے سر پر50 ہزار روپئے کا انعام رکھا گیا ہے اور سانحہ کے بعد 50 گھنٹوں سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک وہ ہاتھ نہیں آیا۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ گرج چمک کر خاموش ہوگئے ہیں اور انہوں نے صوبے میں25 کروڑ پودے لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ شجر کاری یقیناً بہت اچھا کام ہے، لیکن ایسے وقت میں جبکہ ریاست کے اندر جرائم کی کھیتی لہلہا رہی ہو اور اس کو پولیس کے خون سے سینچا جارہا ہو، یوگی ادتیہ ناتھ جیسے وزیر اعلیٰ کو یہ نوٹنکی زیب نہیں دیتی۔

ڈاکٹر سلیم خان

Post Top Ad

Your Ad Spot