Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, August 31, 2020

خواتین ‏کا ‏ہجوم ‏تعزیہ ‏کو ‏دفن ‏کرنے ‏باہر ‏آگیا۔حکام ‏میں ‏افراتفری۔

جون پور ۔۔اتر پردیش /صداٸے وقت /نماٸندہ /٣١ اگست ٢٠٢٠۔
==============================
شہر کوتوالی حلقہ کے بیگم گنج واقع صدر امام بارگاہ پر اس وقت افرا تفری کا ماحول قائم ہو گیا جب سینکڑوں کی تعداد میں خواتینوں کا ہجوم لبیک یا حسین کی صداؤ کے ساتھ تعزیہ کو دفن کرنے سڑک پر آگئی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ،پولیس سپرٹنڈنٹ بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور ہجوم کو سمجھاتے ہوئے تعزیہ کو دفن کرایا۔
اطلاع کے مطابق پیر کے روز صبح دس بجے کچھ خواتین صدر امام بارہ کے قریب تعزیہ دفن کرنے کیلئے پہنچی جہاں تالا لگنے کی وجہ سے دریا کی طرف سپرد آب کرنے جانے لگی جس پر ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار نے انہیں روک لیا اور کہا سنی ہونے لگی۔خواتینوں سے پولیس اہلکار کی کہا سنی کی اطلاع ملتے ہی سینکڑوں کی تعداد میں خواتینوں کا ہجوم لبیک یاحسین کی ماتمی صداؤ کے ساتھ صدر امام گاہ جانے کیلئے سڑکوں پر اتر گئی جس سے ضلع انتظامیہ میں افرا تفری مچ گئی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پہنچے شہر کوتوال نے سنجیو مشرا،سی او سٹی انکت کمار،ایس پی سٹی سنجے کمار سی او صدر سشیل کمار سمیت دیگر افسران ہنگامہ کر رہے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے۔ادھر معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ دنیش کمار سنگھ،پولیس سپرٹنڈنٹ اشوک کمار بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور کافی مشقت کے بعد لوگوں کو سمجھا کر صدر امام بارگاہ میں تعزیے کو دفن کرایا۔اس ضمن میں ڈی ایم دنیش کمار سنگھ نے بتایا کہ تعزیہ دفن کو لیکر حکومت کی گائڈ لائن کے مطابق 10محرم کے جلوس پر پابندی کیلئے سبھی معززلوگوں کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی جس پر سبھی راضی تھے،پیر کے روز کسی افواہ پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ تعزیہ لیکر صدر امام بارگاہ دفن کرنے پہنچ گئے جس پر پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو حالات خراب ہوگیا۔پورے معاملے کی جانچ کراکر کاروائی کی جائے گی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot