Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Friday, August 21, 2020

ترکی کا تاریخی کاریا میوزیم بھی مسجد میں تبدیل

ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے ایک اور عبادت گاہ  جہاں اب میوزیم قائم ہے، دوبارہ مسجد میں بدلنے کا حکم دیا ہے۔

صداٸے وقت /ذراٸع /٢١ اگست ٢٠٢٠
==============================
ترک صدر نے جمعہ کو اپنے حکم میں کہا ہے کہ استنبول میں واقع 'کاریا' میوزیم کو مسجد میں تبدیل کر دیا جائے۔ کاریا میوزیم کو دوسری عالمی جنگِ سے قبل مسجد کا درجہ حاصل تھا اور اس سے قبل یہ مسیحیوں کا ایک تاریخی گرجا گھر تھا۔
استنبول کے علاقے چورا میں واقع ہولی سیویر نامی یہ گرجا گھر بازنطینی دور کی یادگار ہے جو اپنی دیواروں پر واٹر کلرز سے بنائی گئی تاریخی تصاویر (فریسکوز) کی وجہ سے دنیا بھر کے مسیحیوں میں مقبول ہے۔چودہویں صدی میں بنائی جانے والی ان تصاویر میں مسیحیت کے عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ کی زمین پر دوبارہ آمد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔
ترکی کی ایک انتظامی عدالت نے گزشتہ برس نومبر میں میوزیم (قدیم گرجا گھر) کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔
کاریا میوزیم کو دوبارہ مسجد میں بدلنے کا صدارتی حکم ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب حال ہی میں رجب طیب اردغان نے یونیسیف کی جانب سے تاریخی ورثہ قرار دیے گئے میوزیم 'آیا صوفیہ' کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔اس اقدام کی امریکہ سمیت کئی ممالک نے مذمت کی تھی۔
آیا صوفیہ بھی مسیحیوں کا ایک تاریخی گرجا گھر تھا جسے عثمانی سلاطین نے مسجد کا درجہ دے دیا تھا۔ یونان کے وزیرِ خارجہ نے ترک صدر کے نئے حکم نامے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک حکومت کی جانب سے یہ ایک اور اشتعال انگیزی ہے۔
ترکی کی ایک حزب اختلاف جماعت 'ایچ ڈی پی' کے رکنِ اسمبلی گارو پیلان نے میوزیم کی مسجد میں تبدیلی کے حکم کو ملک کے لیے شرم ناک قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ترکی کی کثیر الثقافتی شناخت اور مختلف مذاہب کی تاریخ کو قربان کیا جا رہا ہے۔
عثمانی سلاطین نے 1453 میں اس چرچ کو کاریا مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید ترکی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس دوران 'آیا صوفیہ' اور 'کاریا مسجد' کو میوزیم کا درجہ دیا گیا تھا۔

Post Top Ad

Your Ad Spot