Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Tuesday, September 8, 2020

نٸی ‏تعلیمی ‏پالیسی ‏۔۔بحث ‏و ‏نظر ‏کے ‏چند ‏گوشے۔۔



از/ مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ/صداٸے وقت۔
==============================
مرکزی کابینہ نے کستوری رنگن کی قیادت والی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے مسودہ کو ۲۹/ جولائی ۲۰۲۰ء کو منظور کر لیا ہے، اس پالیسی میں حق تعلیمی ایکٹ ۲۰۰۹ء میں توسیع کرکے اسے سو لہ سال سے اٹھارہ سال کر دیا گیا ہے، فارن یونیورسٹی کا قیام، نصاب میں ۳۰/ فیصد کی تخفیف، اساتذہ کی ٹریننگ پر توجہ، پی اچ ڈی کورس میں براہ راست داخلہ کی تجویزکو بہت سارے ماہرین تعلیم نے مناسب قرار دیا ہے، اسی طرح تدریسی اساتذہ سے غیر تدریسی کاموں کے بوجھ کو کم بلکہ الیکشن کے علاوہ ختم کرنے کی تجویز بھی قابل ستائش ہے، مادری زبان/ خانگی زبان/ علاقائی زبان کو ذریعہئ تدریس قرار دینا بھی بہتر قدم ہے۔

 اس تعلیمی پالیسی کا نفاذ فوری طور پر نہیں بلکہ طویل منصوبہ بندی کے ساتھ ۲۰۳۰ء تک ہوگا، یعنی۱۰/ سال اس کے نفاذ میں لگیں گے، تب تک بہت کچھ بدل چکا ہوگا، اور ایک نئی تعلیمی پالیسی کی ضرورت محسوس کی جانے لگے گی۔یوں بھی یہ پالیسی ۲۰۳۵ تک کے لیے ہی بنائی گئی ہے۔

 جن امور پر لوگوں کو اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ اس پالیسی میں اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لیے کچھ نہیں کہا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا طریقہئ کار(میکانزم) تیار کیا گیا ہے جس سے تعلیم کے میدان میں پس ماندہ اقلیتی قبائل، ذات اور مذہب کے لوگوں کو اوپر اٹھانے میں مدد مل سکے۔مدارس، مکاتب، گروکل اور پاٹھ شالے کو اس پالیسی میں کوئی جگہ نہیں دی گئی ہے، دیو مالائی قصے کہانیوں کو نصاب کا جز بنانے پر زور دیا گیا ہے، جیسے یہ کوئی عوامی جمہوری ملک نہ ہو کر خاص مذہب کا ملک ہو، پالیسی میں مختلف مذاہب کے اعلیٰ اخلاقی اقدار اور تاریخی ورثہ کو نظر انداز کرکے صرف ایک مذہب کی بالادستی پر زور صرف کیا گیا ہے جس سے اندیشہ ہوتا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی ملک کو کسی خاص رخ پر گامزن کرنے کے لیے ہی تیار کی گئی ہے، وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس کا اقرار کیا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں ملک کے اہداف کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل کے لئے نئی نسل کو تیار کیاجا سکے، انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک سرکلر نہیں بلکہ ایک مہا یگیہ ہے، جو ایک نئے ملک کی بنیاد رکھے گا، وہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور وزارت تعلیم کے اشتراک سے منعقد نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ہائر ایجوکیشن میں ہونے والی تبدیلیوں پر قومی کانفرنس میں خطاب فرما رہے تھے، دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی اور راشٹریہ سیوک سنگھ کاہدف کیا ہے اور وہ کن خطوط پر نسلوں کی ذہن سازی اور نئے ملک کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے، اسی تقریر میں وزیر اعظم کا یہ جملہ بھی بڑا معنی خیز ہے کہ اب تک تعلیمی پالیسی وہاٹ ٹو تھنک(What to think)یعنی سوچنا کیا ہے کہ ساتھ آگے بڑھ رہی تھی، لیکن اب ہم لوگوں کو (How to think)کیسے سوچنا ہے پر زور دینا ہے، وزیر اعظم کی اتنی وضاحت کے بعد اس تعلیمی پالیسی کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اس پالیسی کے تعارف میں ہی یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ ہندوستان کی قدیم اور سناتنی علوم وافکار اور خوش حال روایت کی روشنی میں یہ پالیسی تیار کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ مختلف موقعوں سے جو تجاویز ملی، تنظیمی اور تعلیمی اداروں نے سرکار کو پیش کیا تھا اس کی جگہ ردی کی ٹوکری ہی قرار پائی، اس تعلیمی پالیسی کو دیکھنے سے ایسا نہیں لگتا کہ جو تجاویز پیش کی گئی تھیں اسے کمیٹی کے لوگوں نے پڑھنے کی بھی زحمت گوارہ کی ہو۔

پالیسی میں راشٹر واد اور بھارتیہ جیسے الفاظ بار بار استعمال کیے گیے ہیں، اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سارے نصابی کتابوں میں قومی اور بھارتیہ مواد آنا چاہیے، ان دونوں لفظ سے کس کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہاں یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان میں مسلم عہد حکمرانی کے واقعات نصاب سے نکال کر ان واقعات ومعاملات کو آگے بڑھایا جائے گا جس سے ہندتوا کی بر تری کا تصور لوگوں میں پیدا ہو، اس کے لیے الفاظ بڑے خوش کن مشن نالندہ، مشن تکشلا، بھارتیہ سنسکرتی وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے اور اجمال سے کام لیا گیا ہے تاکہ اس کے خطوط کار اور روپ ریکھا کی تعیین بعد میں حسب منشا کی جا سکے۔
اس پالیسی کے تحت مرکزی فروغ وسائل انسانی کا نام بدل کر وزارت تعلیم رکھا گیا ہے، اس سے تعلیم پر توجہ مرکوز ہوگی اور تعلیم کا سارا نظام بشمول اساتذہ کی تقرری مرکزی حکومت کے پاس رہے گا اور ریاستوں کو مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گیے قواعد وضوابط پر ہی چلنا ہوگا، پہلے یہ شعبہ مرکز اور ریاست دونوں کے پاس تھا، ریاستی حکومتیں اپنا الگ تعلیمی نصاب چلاتی تھیں اور مرکزی حکومت کا نصاب الگ تھا لیکن ایسا کرنے سے مرکزی حکومت کا ہدف متاثر ہو سکتا ہے اس لیے پالیسی کے مضبوط طور پر نافذ کرنے کی شکل یہی ہے کہ اسے مرکز پر منحصر رکھا جائے، اس پالیسی میں لبرل تعلیم کی بات بھی کی گئی ہے، لیکن لبرل تعلیم کی تشریح نہیں کی گئی ہے، شاید اس کا مقصد آئینی اقدار کا فروغ اور مروجہ غیر لچک دار حد بندیوں کا خاتمہ ہے، سائنس، ٹکنالوجی، سماجی علوم، آرٹس اور انسانیت جیسے موضوعات پر معیاری تحقیق کے لیے ایک قومی تحقیقی فاؤنڈیشن کے قیام کی بات بھی نئی تعلیمی پالیسی میں مذکور ہے اس کے لیے مرکزی حکومت سالانہ گرانٹ دیا کرے گی، نئی تعلیمی پالیسی میں زبان، ادب، آرٹس، کھیل کود اور میوزک کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، پالیسی میں ویدانت کی تعلیم وتدریس، گیتا، سوریہ نمسکار، یوگا اور وندنا پر زور دیا گیا ہے، اس لیے اسکولوں میں پڑھنے والے مسلم طلبہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے لیے ایسے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا حصول مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔

نئی تعلیمی پالیسی میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ چھ سے آٹھ کلاس کے طلبہ کارپینٹری، پینٹنگ، باغبانی اور ظروف سازی جیسے کام کو سیکھیں گے، کاغذ پر یہ تجویز بہت بھلی معلوم ہوتی ہے، لیکن عملًا متوسط درجے کے خاندانوں میں یہ مقبول نہیں ہوگا، کیوں کہ ہمارے عہد میں لوگ ہاتھ سے زیادہ دماغ کے کام کو ترجیح دیتے ہیں، کاشت کار، درزی، کمہار، رکشہ پولر وغیرہ کا بچہ بھی چاہتا ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر کم از کم کلرک بنے، اس کی دلچسپی کھیت کھلیان، سلائی مشین، کمہار کے چاک اور رکشہ سے زیادہ قلم پکڑنے سے ہے، وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ دستی ہنر ہمارے اوپر غیر ملکی دروازے نہیں کھول سکتے، کھلیں گے بھی تو ہمیں غربت وافلاس کے سبب کسانوں کی طرح خود کشی ہی کرنی ہوگی۔

 نئی تعلیمی پالیسی میں پانچویں درجہ سے اوپر سہ لسانی فارمولہ نافذ کرنے کی بات بھی موجودہے، یہ تین زبانیں کون سی ہوں گی ہمیں بھرم میں نہیں رہنا چاہیے؛ اس لیے کہ ہندی راشٹر بھاشا ہے، انگریزی بین الاقوامی رابطہ کی زبان ہے اور سنسکرت کو نصاب کا لازمی جز بنایا جا رہا ہے، تین زبانیں مکمل ہو گئیں، رہ گئی اردو تو اس کے لیے موجودہ پالیسی میں کوئی موقع نظر نہیں آتا، پانچویں درجہ تک بھی مادری زبان میں جو تعلیم دینے کی بات کہی گئی ہے، وہ صرف سرکاری اسکولوں کے لیے ہے، رہ گیے پرائیوٹ اسکول جن میں ساٹھ سے ستر فی صد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کے بارے میں یہ پالیسی خاموش ہے، مطلب یہ ہے کہ انہیں من مانی کی پوری اجازت ہوگی، اور وہ مادری زبان میں تعلیم دینے کے پابند نہیں ہوں گے۔

اعلیٰ تعلیم کے بارے میں کالجوں میں چار سالہ ڈگری کورس کی بات کہی گئی اور پیشہ وارانہ تعلیم یعنی بی ایڈ کے لیے بھی چار سال مختص کیے گیے ہیں، البتہ یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ اگر کوئی طالب علم ایک سال کے بعد ہی تعلیم چھوڑ دیتا ہے تو اسے کورس کی سند دی جائے گی، دو سال ڈپلوما کے لیے ہوگا اور تین سال کی تعلیم جنہوں نے مکمل کر لی وہ گریجویٹ کہلائیں گے، ریسرچ کے معیار کو بلند کرنے کے لیے بھی اس پالیسی میں توجہ دی گئی ہے اور ریسرچ فنڈنگ یعنی آر اف اے کی تجویز رکھی گئی ہے، ایک کمیشن ہائر ایجوکیشن کے لیے قائم ہوگا، جو یو جی سی، این سی ای ٹی اور اے ای سی ٹی کے ملبے پر کھڑا ہوگا، غیر ملکی تعلیمی اداروں کے قیام اور کالجوں کے خود مختار بنائے جانے سے تعلیمی میدان میں افرا تفری مچے گی، ان کو سرٹیفکٹ دینے کا جو اختیار دیا گیا ہے وہ بھی مفید اور سود مند نہیں ہے، کیوں کہ یکسانیت کا فقدان ہوگا اور مقابلاتی دوڑ میں غلط صحیح طور پر کام آگے بڑھنے لگے گا۔

 نئی تعلیمی پالیسی میں مالیات کی فراہمی کے لیے جی ڈی پی کے صرف چھ فی صد خرچ کرنے کی بات کہی گئی ہے، اس سلسلے میں واضح طور پر مرکز اور ریاست کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے تھی، ایسااس لیے بھی ضروری ہے کہ اب تک تعلیمی بجٹ کا نوے فی صد تدریسی، غیر تدریسی عملہ کی تنخواہ اور پنشن پر خرچ ہوتا رہا ہے، دس سے بارہ فی صد رقم ہی تعلیمی ترقی، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لیے بچ جاتی ہے جو ناکافی ہے۔

 اب تک روایت یہ رہی ہے کہ تعلیمی پالیسی پر دونوں ایوان میں بحث ہوتی ہے، پھر اس بحث کی روشنی میں ترمیم کے بعد ہی اسے نافذ العمل سمجھا جاتا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف کابینہ سے منظور کرانے کو کافی نہ سمجھے،جب بھی ایوان کی کاروائی شروع ہو تو اسے بحث کے لیے ارکان کے سامنے رکھے تاکہ اس پر کھل کر بحث ہو سکے؛کیوں کہ اس سلسلے میں تھوڑی سی کوتاہی ہندوستانی اقوام اور ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔(بشکریہ نقیب)

Post Top Ad

Your Ad Spot