Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Saturday, October 3, 2020

اسلامی ‏فوبیا ‏۔۔۔فرضی ‏خوف ‏میں ‏مبتلا ‏مغربی ‏دنیا۔


*مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ*۔
              صداٸے وقت 
           ============
چودہویں صدی ہجری میں عالم اسلام نے مغربی دنیا سے شدیدعلمی وفکری مزاحمت کے بعد جو بر تری ثابت کی اور جس کے نتیجے میںبہت سے علاقوں میںاسلام نے پھر سے اپنے قدم جمائے ،وہاں اسلامی تہذیب وثقافت ، اسلامی اقدار اور زندگی کے ہر شعبہ میںاسلام کی واضح اور عمد ہ تعلیمات نے لوگوں کو متاثر کرناشروع کیا ، عیسائیت کی سمٹتی طنابیں اور یہودیت کی مادیت سے قربت اور مذہب سے دوری کی وجہ سے اسلام لوگوںکے دلوں میںگھر کرنے لگا ، جس سے مغربی استعمار کو خطرہ لاحق ہوا ،اور ایسا انہیں محسوس ہونے لگا کہ اسلام دنیا کی بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے ۔ اس احساس نے انکے اندر اسلام سے خوف پیدا کردیا اور وہ اسے ہوّا بنا کر فوبیا کے شکار ہو گئے، فوبیا نارمل حالت کو نہیں کہتے، یہ Abnormel fear ہوتا ہے ، یہ لفظ انگریزی سے منتقل ہو کرا ن دنوں عربی میں بھی اسی معنی میںاستعمال ہو رہا ہے۔ چنانچہ عربی میں اس کے معنی’’ ھلع مرض من شی معین ‘‘ مریضانہ انداز میںکسی معین چیز کا ہوّا کھڑا کر دیناکے ہیں ، یہ ہوّا  اُدباء، شعراء، مفکرین، میڈیا، دانشور ، سیاست داں وحکمراںسبھی طبقہ کی طرف سے کھڑا کیا گیا  اور ایسا ماحول بنا یا گیا کہ سبھی تہذیب وثقافت اور سبھی آئیڈیا لوجی کے لوگ اسلام سے خطرہ محسوس کرنے لگے ، اس خطرہ کے پیش نظر انہوںنے ایسی پالیسیاںبنائیں اور ایسے اقدام کئے جس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انکے دلوں میں نفرت کی آگ بھر دی ،مستشرقین یورپ نے غلط پروپگنڈہ کرکے نفرت کی اس آگ کوخوب خوب ہوا دیا ، اور شکوک وشبہات اور غلط فہمیوں کے پھیلا نے کا کام منصوبہ بند انداز میں کیاگیا ،جس کی وجہ سے غیر مسلم دنیا یقین کرنے لگی کہ اسلام، تشدد ، زبردستی ، بے لوچ کٹر پن، تعصب اور تنگ نظری کا مذہب ہے ۔انہوں نے اپنے منصوبہ کی بنیاد جن اصول ودفعات پر رکھی ،ا س میں ایک اصول یہ طے کیا کہ اسلامی معاشرہ سے ایسے طریقے سے نفرت دلائی جائے ، جس سے ہماری دشمنی طشت ازبام نہ ہو اور ہم دینی وروحانی اقدار میں عیوب ونقائص نکال کر اسے تہہ وبالا کرنے میں کامیاب ہو جائیں ( دیکھئے کلمۃ الحق ماہ محرم 1387ھ مطابق اپریل 1964)
اس مہم میں بڑا حصہ یہودیوں کا رہا ، یہودیوں کی انٹر نیشنل کانفرنس منعقدہ 1900 نے قرارداد پاس کیا کہ ’’ ہم صرف اس پر اکتفا نہیں کریں گے کہ دین داروں پر فتح حاصل کریں ، انکی عبادت گاہوں پر غلبہ حاصل کرلیں؛ بلکہ ہمارا بنیادی اور اصل مقصد ان لوگوں کے وجود کو ختم کرنا ہے۔ ماسونی مجلۂ کاسیا 1903 میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ ہمیں دین کو حکومت سے جدا کرنا ہے، اور ایسی جد وجہد کرنی ہے کہ ماسونیت دین کی جگہ لے لے اور اس کی محفلیں عبادت گاہوں کی جگہ لے لیں ، ماسونی مشرق اعظم نے 1913میں انسانوں کو مقصود بنانے اور خدا کو چھوڑ نے کی تجاویز پاس کیں اور بلغراد کی ماسونی کانفرنس1922 نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہمیں ہر گز نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ماسونی، دین کے دشمن ہیں اورہمیں دین کے آثار اور علامات کے خاتمہ کی کوشش میں کوتاہی نہیں کرنی چاہے ۔عیسائی دنیا نے بھی اس جد وجہد میں حصہ لیا اور ساری توجہ مسلمانوں سے اسلامی فکر کے خاتمہ اور خدا سے ان کے تعلق کو منقطع کرنے پر صرف کر دیا ، ان کی جد وجہد کا مرکزی محور مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنا، پارہ پارہ کرنا رہا ؛تا کہ مسلمان کمزور ذلیل اور بے سہارا ہو جائیں ۔ ان کے یہ منصوبے وقتاً فوقتاً کامیاب ہوتے رہے ، خلافت اسلامیہ کا خاتمہ ، ترکی کے دستور سے اسلامی اساس کو نکال باہر کرنا ، عراق وافغانستان میں مسلمانوں کی قوت وطاقت کا زوال اورعراق کے مسلمانوں کوٹکڑے ٹکرے کرنا، اسی منصوبے کے نتائج ہیں، جس سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ جولوگ کچھ اور نہیں کر سکے وہ تنگ نظری کے سبب ، سبّ وشتم پر اتر آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میںگستاخی، چاہے وہ مضامین ومقالات کی شکل میںہو ،یا کارٹونوں کی شکل میں، اس کی تہہ میںیہی جذبہ کار فر ماہے ،اس کی بھی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی فرائض سے روکا جائے اور ثقافتی تقریبات منعقد نہ ہو سکیں ، بعض نام کے مسلم لوگوں سے ایسے کام کروائے گئے جس سے اسلام کے طور طریقوں اور عبادات کا مذاق اڑایا جاسکے ، میڈیا نے بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کی ، جیسے سب کچھ بدل رہا ہے ۔ اس طرح اسلام فوبیا کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو تا چلا گیا ، بنیادی حقوق کی ساری دفعات کتابوں میںبند ہو کر رہ گئیں ۔ اور ان کے خلاف اظہار رائے کی آزادی کا ہتھیار استعمال کیا گیا ،اور ان لوگوں نے کیا ، جنہوں نے دوسروں سے آزادی کے حقوق چھینے اور سلب کئے، اس صورت حال سے مسلمانوں کو ذہنی اور کبھی کبھی جسمانی اذیتیںبھی اٹھا نی پڑیں ، اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں ہی میںسے کچھ لوگ مغرب کے سامنے سپر انداز ہوگئے اور انہوںنے مغربی تہذیب وثقافت کو اپنا نے میں خیر وشر کی تمیز کے بغیر تیزی دکھا ئی اور اسلامی تہذیب وثقافت کو عقیدہ ،عبادات اور پرسنل لا تک محدود کرکے رکھ دیا ، تدریجا ان شعبوں میںبھی انہوں نے اسلام سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور پورے طور پر مغرب کے ہم نوا ہو گئے ، اس طرح اسلام فوبیا کا دائرہ مسلمانوں تک پہونچ گیا۔ اور وہ بھی مغرب کے غلط پروپیگنڈے کے شکار ہو گئے ، یہ دائرہ دھیرے دھیرے بڑھتا جا رہا ہے۔ 
لیکن اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں نے اسلام کو جاننا اور پڑھنا شروع کیا ، ان میںاس مذہب کے تئیں ایک قسم کا تجسس پیدا ہو گیا ، اور اسلام کی صداقت نے ان کے دلوں میں گھر کر لیا ، یہی وجہ ہے کہ آج بڑی تیزی سے دوسرے مذاہب کے لوگ اسلام میںداخل ہو رہے ہیں ۔
واقعہ یہ ہے کہ اسلام فوبیا کے ازالہ کی شکل صرف یہ ہے کہ ہم اسلام کی واضح اور صحیح تعلیمات کو لوگوں میں پھیلا ئیں، مغرب میں جن کتابوں سے اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ وہ بیش تر مستشرقین کی لکھی ہوئی ہیں اور وہ قاری کو گمراہ کرتی ہیں، ضرورت ہے کہ مغرب اور یورپ کی مروجہ زبانوںمیںوہاں کے معیارومزاج کو سامنے رکھ کر اسلام کی بنیادی تعلیمات ، نبی رحمت کی رحمت ومحبت سے پُر احکام وہدایات کے مختلف پہلوؤں پر کتابیں لکھی جائیں اوران سے مغرب کو روشناس کرایا جائے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے، مقصد صرف یہ ہے کہ جس بڑے پیمانے پر ہونا چاہئے، نہیں ہو رہا ہے۔ اس کے لئے احمد دیدات جیسے مین ٹومشن کی ضرورت ہے ، اس کے بغیر اسلام فوبیا کا ازالہ ممکن نہیںمعلوم ہوتا ۔اب تک جس نہج پر ہم نے کام کیا ہے اس کی بنیاد بیش تر موعظۂ حسنہ، وجادلھم بالتی احسن پر ہے ، دعوت دین کاکام حکمت کے ساتھ ہم نے کم کیا ہے ؛ حالانکہ دعوت دین کے کاموں میں اس کو اولیت حاصل ہے ۔جس کاپتہ حکم خدا وندی  اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّک بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنْ سے چلتاہے اور جس میں دعوت الحکمۃ کو مقدم رکھا گیا ہے۔یہاں مجھے ا س حقیقت کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ خود ہمارے بہت سارے عمل ’’اسلام فوبیا ‘‘کا سبب بن جاتے ہیں، تلواروں سے ٹپکتے خون کے اشتہارات ، بابری مسجد کی تصویر کے ساتھ ، الہی بھیج دے محمود کوئی کااشتہار ، اور انتہا ئی پر امن کارواں میں تلوار کو تحفے میں پیش کرنے،جیسا عمل دیکھنے میں جتنا بھلا معلوم ہو، دوسرے مذاہب والے اسے دہشت اور تشدد کا اشاریہ سمجھتے ہیں، اور خود مسلم سماج کو ایسے اشتہارات سے کوئی فائدہ نہیںپہونچتا ، اس قسم کی حرکتوں سے دوسرے مذاہب والے اسلام فوبیا کے شکار ہوجاتے ہیں۔ہماری بے عملی اور بد اعمالی سے بھی اسلام فوبیا کا پیغام دوسروں تک پہونچا ہے، اس لئے ہمیں اپنے اعمال کا بھی محاسبہ کر نا چاہئے ،کہ کہیںہم دانستہ یا نا دانستہ ، اسلام کونقصان تو نہیں پہونچا رہے ہیں ۔ اسلام فوبیا کے ازالہ کے لئے کرنے کا ایک کام یہ بھی ہے، اسلام کے محاسن کے اظہار کے ساتھ ساتھ اسلام دشمنوں کی جانب سے مخالفانہ فکری یلغارکا علمی جواب دیاجائے، اس سے اسلامی تہذیب وثقافت پر مسلمانوںکا اعتماد بحال ہوگا ، اور اسلام مخالف اعتراضات کا دفاع کیا جا سکے گا۔اگرہم ان امور پر توجہ دے سکے اور لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناش کرا سکے ، تو اگلی صدی انشائ اللہ اسلام کی صدی ہوگی۔

Post Top Ad

Your Ad Spot