Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, November 29, 2020

کابل میں الگ۔الگ دو بڑے دہشت گردانہ حملے، 34 افراد کی موت

افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے باوجود دہشت گردانہ حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اتوار کو دو الگ۔الگ بم دھماکوں میں کم سے کم 34 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ وہیں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی خریں ہیں۔ پہلا حملہ افغانستان میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بناکر کیا گیا جبکہ دوسرے حملے میں صوبائی کونسل کے سربراہ کو مارنے کی کوشش کی گئی۔
نٸی دہلی /صداٸے وقت /ذراٸع /٢٩ نومبر ٢٠٢٠۔
==============================
افغانستان  میں طالبان   کے ساتھ امن مذاکرات کے باوجود دہشت گردانہ حملے  رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اتوار کو دو الگ۔الگ بم دھماکوں  میں کم سے کم 34  لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ وہیں بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی خریں ہیں۔ پہلا حملہ افغانستان میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بناکر کیا گیا جبکہ دوسرے حملے میں  صوبائی کونسل کے سربراہ کو مارنے کی کوشش کی گئی۔
افغانستان  مشرقی صوبہ غزنی میں عہدیداروں نے بتایا کہ حملہ آور بارود سے بھری ایک فوجی گاڑی کو فوجی کمانڈو اڈے پر لے گیا  اور اس میں دھماکہ  کردیا۔ اس دھماکے میں 31 فوجی ہلاک ہوگئے  جبکہ 24 دیگر زخمی ہوگئے ۔ غزنی اسپتال کے سربراہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تمام فوجی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ خودکش حملہ آور نے کار اڑانے سے پہلے فوجی اڈے کے گیٹ پر فائرنگ بھی کی ۔
جنوبی افغانستان  کے افسران نے بتایا کہ جُبل میں خودکش حملہ آور نے کار کے ذریعے صوبائی کونسل کے سربراہ کے قافلے کو نشانہ بنایا ۔ اس حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوگئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ صوبائی کونسل کے سربراہ اتوار کے حملے میں بچ گئے اور انہیں معمولی چوٹیں آئیں۔ کسی نے بھی فوری طور پر ان حملوں کی ذمہ داری نہیں لی ہے ۔ منگل کے روز  افغانستان کے صوبہ بامیان میں سڑک کے کنارے چھپاکر رکھے گئے بم  کے پھٹنے   سے ٹریفک پولیس اہلکار سمیت 14 افراد کی موت ہو گئی تھی جبکہ  اور 45 لوگ زخمی ہوگئے تھے ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان طارق ایرین نے بتایا تھا کہ دوپہر میں ہوئے دھماکے میں 45 لوگ زخمی ہو گئے ۔ دھماکے میں کئی دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

Post Top Ad

Your Ad Spot