Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Wednesday, November 25, 2020

عقیقہ ‏اور ‏اس ‏کی ‏رسمیں۔

از / شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی /صداٸے وقت۔
==============================
قارئین کرام  ۔ جب کسی انسان کو اللہ تعالی اولاد کی عظیم نعمت سے سرفراز فرماتا ہے تو اس کے شکرانے کے طور پر اس سے متعلق چند احکام متوجہ ہوتے ہیں جن کا ذکر احادیث مبارکہ میں تفصیل سے آیا ہے اولاد کی ولادت کے وقت داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا اچھا نام رکھنا تحنیک کروانا یعنی کسی نیک آدمی سے کھجور یا اس جیسی کوئی میٹھی چیز چبوا کر نومولود کے    منہ میں دینا ساتویں دن عقیقہ کرنا اس کے سر کے بال منڈوانا اور بال کے بقدر چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کرنا یہ تمام اعمال سنت اور مستحب ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کی ولادت پر یہ امور انجام دیے ہیں اور  ارشاد فرمایا ہر بچہ عقیقہ کی وجہ سے گروی ہوتا ہے اس لئے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے اس کی طرف سے خون بہاؤ اور تکلیف ہٹاؤ ۔ 
عقیقہ کا شرعی حکم  ۔ 
اگر گنجائش ہو تو ہر ماں باپ کو اپنی اولاد کا عقیقہ ضرور کرنا چاہیے اس سے متعلق عام  طور پر تین طرح کی احادیث ملتی ہیں ایک وہ جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے یا پھر جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ کرنے کا تذکرہ ہے اس طرح کی احادیث کی تعداد زیادہ ہے دوسری وہ احادیث ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے عقیقہ   کی ا باحت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس طرح کی حدیثیں کم ہیں تیسری قسم وہ ہے جن میں عقیقہ کے منسوخ کئے جانے کا تذکرہ ہے اختلاف کے سبب فقہاء کے مسالک بھی متعدد ہوگئے احناف کے یہاں  اس سلسلے میں دو قول پائے جاتے ہیں ایک استحباب کا اور دوسرا جواز کا ۔ 
مالابد منہ میں ہے عقیقہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نیز امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت وجوب کی بھی ہے اور امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک مستحب ہے  ۔ 
عقیقہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ۔ 
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ تعالی اللہ  عنہ کے عقیقہ میں ایک بکری کی قربانی کی اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا کہ اس کا سر صاف کر دو اور بالوں کے وزن بھر چاندی صدقہ کردو ہم نے وزن کیا درہم برابر یا اس سے کچھ کم تھے بال ۔ 
حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے بچہ پیدا ہو وہ اس کی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کرے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ فرائض اور واجبات کی طرح کوئی لازمی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا درجہ استحباب کا ہے۔ 
اسی طرح لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریاں   کرنا بھی کچھ ضروری نہیں ہے ہاں اگر اللہ تعالی نے وسعت دی ہے تو دو کی قربانی بہتر ہے ورنہ ایک بھی کافی ہے۔ 
بچے کے سر پر زعفران لگانے کا ثبوت ۔ 
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ دستور تھا کہ جب کسی کے یہاں لڑکا پیدا ہوتا تو بکری یا بکرا ذبح کرتا اور اس کے خون سے بچے کے سر کو رنگ دیتا پھر جب اسلام آیا تو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی تعلیم و ہدایت کے مطابق ہمارا طریقہ یہ ہو گیا کہ ہم ساتویں دن عقیقہ کی بکری یا بکرے کی قربانی کرتے ہیں اور بچے کا سر صاف کرا کے یعنی منڈوا کے اس کے سر پر زعفران لگا دیتے ہیں۔ 
عقیقہ کس عمر تک ہے ۔ 
عقیقہ کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ ساتویں روز کیا جائے اگر ساتویں روز نہ ہو تو چودہویں روز یا اکیسویں روز کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عقیقہ کے جانور کو ساتویں روز ذبح کیا جائے یا چودہویں روز یا اکیسویں روز بہت سے علماء نے ساتویں دن کی تعداد کا لحاظ کر کے بالغ ہونے تک مدت لکھی ہے اور بہت سے حضرات نے کسی مدت کی قید نہیں لگائی ہے عقیقہ خود مستحب اور اس کو مستحب طریقہ سے ادا کرنا چاہیے لہذا ساتویں روز عقیقہ کرنا بہتر ہے   نہ ہو سکے تو چودھویں دن یا اکیسویں دن کرے کسی مجبوری کے اس سے زیادہ تاخیر نہ کرے۔ 
مسئلہ۔ 
بڑھاپے تک عقیقہ جائز تو ہے مگر وہ عقیقہ کیا ایک خیراتی ذبیحہ ہوگا۔ 
عقیقے کا جانور ۔ 
جس جانور کی قربانی درست ہے اس کا عقیقہ بھی درست ہے اور جس جانور کی قربانی جائز نہیں اس کا عقیقہ بھی درست نہیں۔ 
عقیقے کی رسمیں۔ 
پیدائش کے ساتویں روز لڑکے کے لیے دو بکرے اور لڑکی کے لیے ایک ذبح کرنا اور اس کا گوشت کچا یا پکا کر تقسیم کر دینا اور بالوں کے برابر چاندی وزن کر کے خیرات کر دینا اور سرمونڈ نے کے بعد زعفران سر میں لگا دینا بس یہ باتیں تو ثواب کی ہیں باقی جو فضولیات نکالی گئی ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ 
1, برادری اور کنبے کے لوگ جمع ہو کر سر مونڈنے کے بعد کٹوری میں اور بعض سوپ میں جس کے اندر کچھ اناج بھی رکھا جاتا ہے کچھ نقد بھی ڈالتے ہیں جو نائ کا حق سمجھا جاتا ہے اور یہ اس گھر والے کے ذمے قرض سمجھا جاتا ہے بے بنیاد اور بے اصل ہے۔ 
2, یہ جو دستور ہو گیا ہے کہ جس وقت بچے کے سر پر استرہ رکھا جائے اور نائ سر مونڈنا شروع  کرے اس وقت بکرا ذبح ہو یہ مہمل رسم ہے  ایسی باتیں تراش لینا بری بات ہے شریعت سے سب جائز ہے چاہے سر مونڈنے کے کچھ دیر بعد ذبح کرے یا ذبح کرکے سر منڈائے سب درست ہے بشرطیکہ اس دن میں یہ دونوں کام ہو جانا چاہیے۔ 
3, بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچے  کے ماں باپ نانا نانی دادا دادی کو کھانا درست نہیں اس کی کوئی اصل نہیں اس کا قربانی جیسا حکم ہے جس طرح قربانی کا گوشت سب  اہلِ خانہ کھا سکتے ہیں اسی طرح عقیقہ کا گوشت بھی سارے لوگ کھا سکتے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ رسومات و خرافات اور نام و نمود سے حفاظت فرمائے اور شریعت و سنت کے مطابق عقیقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 
شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔ 
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی۔ بہار رابطہ نمبر۔۔7631287846

Post Top Ad

Your Ad Spot