Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, December 31, 2020

صحت مند خواتین صحت مند معاشرہ۔ ‏

تحریر /  *ام ہشام،ممبئ* / صداٸے وقت ۔
==============================
دن بھر کی خواری کے بعد گھر آتے ہی ان پر نظر پڑتے ہی تکان اور بیزاری سو کا لیول  پار کرچکی ہوتی ہے۔اور ہو بھی نہیں کیوں نہ جہاں جہاں نظریں جاتی ہیں سلم ٹرم چیزیں دیکھنے کی عادت جو ہوچکی ہے حتی کہ ہتھیلی میں دبے ہوئے فون کے وال پیپر پر موجود دبلی پتلی سی حسینہ بھی منہ چڑارہی ہوتی ہے ۔تو پھر کچن سے اچانک پانی کا گلاس تھامے باہر آنے والی اس منہ جھاڑ سر پہاڑ والی مخلوق کو دیکھ کر شوہر کا موڈ کیوں نہ آف ہو ۔پورے دن کی تھکان اور انتظار کا یہ بدلہ ہے کہ اس پر ایک انتہائی ناگوار سی نظر ڈال کر اپنے  روٹین میں مشغول  ہوجائیں۔
یہ تقریبا ہر مشرقی میاں بیوی  کی کہانی ہے۔لیکن میرا مدعا ہے انھیں ’ کمر سے  کمرہ تک‘ کا سفر  کروایا کس نے،چھوئی موئی سی لڑکی فقط ایک ہی بچے کی ولادت کے بعد ’گوشت کا پہاڑ‘بنی کیسے؟کیا واقعی کوئی ان باتوں کی وجوہات جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے یا فقط بیوی کے موٹاپے پر گڑھے گئے چٹکلے سننے میں ہی دلچسپی ہے ۔کبھی کبھار سچ  کا سامنا بلیک کافی جیسی تاثیر رکھتا ہے ۔

تقریبا ہر گھر میں خواتین موجود ہیں بالخصوص ٹین ایج بچیوں سے لے کر مڈل ایج تک۔اور موٹاپے کے مسائل بھی انھی عمر کی خواتین میں زیادہ پائے جاتے ہیں ۔کچھ باتیں جن پر ہمیں غور کرکے ان کا حل ڈھونڈنا تھا وہ  سماجی لطیفوں کی نذر ہوگئیں۔آج شعور وبیداری کے بعد ہمیں سمجھ آیا کہ ایسی سنگین باتوں پر کبھی ہم بھی بہت ہنسا کرتے تھے، اب سخت افسوس ہوتا ہے اور اس لیے کوشش ہے کہ دوسرے بھی اسے محض ہنسی مذاق  کا نشانہ نہ بنائیں ۔

ہندوستانی خواتین کی ۹۰  فیصد خواتین پی سی او ڈی(PCOD)اورپی سی او ایس(PCOS) کا شکار ہیں ۔جس کے سبب بچیاں اور عورتیں سبھی مختلف مسائل کا شکار ہیں ۔ممکن ہے آپ میں سے کسی نے اس بیماری کا نام ہی پہلی مرتبہ سنا ہو۔بہرحال اس بیماری پر تفصیلا بات ان شاءاللہ پھر کبھی ہوگی ۔

آج فقط اتنا ہی کہ ہر موٹاپا ہنسی خوشی اور عیش وعشرت  خوشحالی کی گواہی نہیں ہوتا کہ آپ ہنستے ہی چلے جائیں ۔بیوی کوموٹاپے کے طعنے دے دے کر اس کا موازنہ پروفیشنل ماڈل یا کسی دوسری قریبی عورت سے کرکر اسے زک پہنچائی جائے ۔کمرسے کمرے تک کا سفر ۔۔۔۔۔بیماری پر بیماری کے ساتھ طے ہوا

بے شمار ہارمونل ڈس بیلینس۔کئی پیچیدگیوں سے گذرتی خواتین، نیند کی کمی، خون کی کمی اینیمیا، ہارمونز کا انتشار ماہواری بے قاعدگیوں کی وجہ سے بار بار اسقاط حمل ، کارٹیسول کی زیادتی۔ایسی بے شمار وجوہات ہیں جو خواتین کی گرتی صحت اور ان کے موٹاپے کی وجہ ہیں ۔

آپ چونکہ ساتھی ، رہبر اور گارجین بھی ہیں تو پھر اسے دوبارہ صحت مند بنانے میں اپنا  ایک بڑا کنٹری بیوشن دیجیے۔ کیونکہ عورت صحت مند ہے تو پورا معاشرہ صحت مند ہے۔ایک بیمار تھکے ہوئے جسم کے ساتھ خواتین دوسروں کا  تو دور اپنا خیال رکھنے سے بھی قاصر ہیں۔تو آئیے ایک قدم ان کی مدد کی طرف بڑھائیے جو سب کا خیال رکھتی ہیں ۔

آج کا پہلاکام :

گھر میں موجود بچی بیوی بہن وغیرہ کی صحت کے متعلق معمولی شبہے پر بھی انھیں گائینا کولوجسٹ (ماہر امراض نسواں)  کے پاس  ضرور لے جائیں ۔ ڈاکٹر کے مشورے پر ان کے ضروری چیک اپس ضرور کروائیں۔وزن میں غیر معمولی اضافے کا سبب صرف  بہت زیادہ کھانا پینا  نہیں ہوتا ۔اکثر بیماری ہی وزن بڑھانے کا سبب بنتی ہے ۔

خواتین کی بد زبانی، چڑ چڑاپن،  کاہلی اور پھوہڑ پن کے قصے ضروربلند وبانگ انداز میں ایک منہ سے دوسرے تک پہنچائے جاتے ہیں لیکن یہ بات کوئی  تسلیم  نہیں کرپاتا کہ مذکورہ تمام چیزوں کے پیچھے  ہر بار اخلاق و تہذیب کی کمی نہیں ہوتی بلکہ ممکنہ پچاس فیصد امکانات ہوتے ہیں کہ خاتون کسی اندرونی کشمکش ، تکلیف ، اذیت یا حالات کی ستائی ہوئی ہے ۔

نتیجتاکارٹیسول (Cartisol)نامی ہارمونز کی بڑھوتری جو دباؤ اور ذہنی اذیت کی وجہ سے جسم میں بننا شروع ہوتا ہے ۔اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے پیدا ہونے والا یہ مادہ  (ہارمونز)رفتہ رفتہ پورے جسم کی کارکردگی پر اثر ڈالتا ہے ۔کارٹیسول کا زور اگر اسی طرح برقرار رہا تو پورا  جسمانی نظام اس کے زیر اثر ہوجاتا ہے پھر شروع ہوتی ہیں بہت سی پیچیدگیاں جیسے ہائی بلڈ پریشر، جلد کی مختلف بیماریاں جن میں سب سے  خطرناک جلدی بیماری  سوریاسس ہے۔چہرے ، سینے اور بالخصوص پیٹ اور کمر کے اطراف چربی کی موٹی تہہ بننا جسے ہم عام زبان میں بیلی فیٹ (Belly Fat)کہتے ہیں ۔

اس کے علاوہ اگر کوئی خاتون بہت زیادہ اسٹریس (Stress) لینے کی عادی ہوچکی ہیں تو پھر وہ بار بار موڈ سوئنگز ، چکر ، مضمحل طبیعت ، جلدی تھکاوٹ کا شکار ہوتی رہیں گی ۔جسے فٹیگ  (Fatigue) لگنا بھی کہتے ہیں ۔مذکورہ مسائل محض ایک ہارمونز کی افراط کا نتیجہ ہیں۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ خواتین کے جسم میں موجود  دیگر فطری ہارمونز میں اگر ناموافق تبدیلیاں آجائیں تو پھر کیا کیا ہوسکتا ہے ؟

آج خواتین میں پی سی او ڈی اور پی سی او ایس  نامی بیماری  وبا کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔ اسے میڈیکل سائنس کبھی ایک خاص حالت کا نام دیتا ہے تو کبھی اپنی تحقیق کی بنا پر اسے خواتین  کی بیضہ دان  کی بیماری کا نام دیتا ہے جسے میڈیکل کہتا ہے:

Polycystic ovary syndrom // disease 

اب تک میڈیکل سائنس کی یہ تحقیق نامکمل ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟یہ مرض موروثی بھی ہوتا ہے، بعض دفعہ حالات اور ماحول کی مطابقت سے مریض کو اپنا شکار بناتا ہے۔بعض مرتبہ مایوس کن زندگی گذارنے سے بھی ہوتا ہے ۔اور کبھی بہت زیادہ  آرام دہ زندگی گزارنے ، کھانے پینے کی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ۔ہر ایک میں الگ الگ علامتیں ہوتی ہیں لازم نہیں کہ ایک ہی عورت میں مرض کی تمام علامتیں پائی جارہی ہوں ۔کئی الگ الگ وجوہات ہیں۔ کیونکہ یہ تکلیف بسا اوقات تیرہ چودہ سالہ بچی میں بھی پائی جاتی ہے اور کبھی بڑی عورت میں بھی۔اس بیماری کی وجوہات نظر انداز کرتے ہوئے میڈیکل سائنس اس کی نشانیوں اور علاج پر توجہ دیتا ہے ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ مذکورہ بیماری عورت کے رحم کے دونوں کناروں پر موجود بیضہ دان سے متعلق ہے اسی لیے اس کا نام ہی پولی سسٹک اوورین ڈسورڈریا ڈسیز ہے۔ پی سی او ڈی اور پی سی او ایس ہوتا یہ ہے کہ ایک صحت مند بیضہ دان عورت کے رحم میں  اپنے فطری معمول کے مطابق ایام حیض میں جنین تیار کرنے والے بیضوں کو تیار کرتا ہے ۔لیکن اگر اس نظام میں بگاڑ آجائے تو تولیدی نظام کے یہ انڈے اپنی مدت مکمل کرکے پھوٹ کر مادر رحم میں داخل ہونے کی بجائے اپنی جگہ پڑے رہ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ بڑھ کر سسٹ (چھالے ، رسولی ، گانٹھ ) کی شکل لے لیتے ہیں ۔

انڈوں کے اپنے جگہ پڑے رہ  کر رحم کے چھالے بن جانے سے کئی بیماریاں پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں کیونکہ یہ فطری نظام سے بالکل الگ معاملہ چل رہا ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے خواتین کے مخصوص ایام میں ایک بڑی گڑ بڑ شروع ہوتی ہے ۔جن میں حیض کا کم ہونا ، بہت زیادہ بڑ ھ جانا ، یا بالکل ہی بند ہوجانا شامل ہے ۔

اب ان حالات کا سیدھا اثر عورت کے  بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے ۔فطری حیض کے سائیکل میں ہی اگر بگاڑ آجائے  اور  اس مرض پر وقت رہتے توجہ اور کنٹرول نہ رکھا جائے تو عورت میں بانجھ پن بھی آسکتا ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیت سے محروم بھی ہوسکتی ہے۔

اس مرض کا دوسرا حملہ کچھ اس شکل میں ہوتا ہے کہ خواتین میں ایسٹروجن نامی  ہارمونز بڑی تعداد میں  بننے لگتے ہیں جس کی وجہ سے خلاف معمول خواتین کے جسم میں کئی جگہوں پر بالوں کی کثرت ہونے لگتی ہے جن میں سب سے بدنما مردوں کی طرح داڑھی یا مونچھ کی جگہوں پر گھنے بالوں کا اگ جانا ہوتا ہے۔

ہم اگر بزرگ خواتین سے اس بابت پوچھیں تو پتہ چلے گا انھیں کبھی پارلر کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ ان کے دور میں خواتین  کو غیر ضروری بال نہیں آتے تھے اور  اس وقت ایسی بیماریاں بھی ناپید تھیں ۔

یہ بھی نئے دور کی ایک دین ہے کہ خواتین کے ساتھ ایسے مسائل بھی جڑ گئے ہیں بالوں کی یہ افراط  ایسٹروجن کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔پھر ساتھ ہی کیل مہاسوں کی بھرمار،ہر وقت عورت کا تھکا تھکا سا رہنا،بات بات پرموڈ کی تبدیلی،افسردگی، اداس طبیعت،نیند کی کمی بے خوابی،شدید قسم کا کمردرد، تیزی سے وزن کا بڑھنا۔یہ سارے مسائل ایک نشانی اور الارم ہیں کہ خاتون کے فطری سسٹم میں کوئی بڑی گڑ بڑ ہوچکی ہے۔ ایسی نشانیاں اگر اپنے گھر کی خاتون یا بچی میں دیکھیں تو پہلی فرصت میں اچھی سی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور ان کی تجویز کے مطابق کام کریں ۔

وقت رہتےاگر ان نشانیوں کو سنجیدہ نہیں لیا گیا اور بروقت ان کا علاج نہیں کیا گیا توآگے چل کر یہ نشانیاں مہلک بیماریوں میں تبدیل ہوسکتی ہیں مثلا ایک غیر متوازن مدت حیض رحم کو زبردست نقصان پہنچاکر عورت کو ہمیشہ کے لیے بانجھ بناسکتا ہے ۔

بریسٹ کینسر ، رحم کا کینسر ،ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ ، ہائی بلڈ پریشر ، دل کا عارضہ ،  ڈپریشن  اور ازدواجی تعلقات میں بگاڑ جیسی اہم اور بڑی خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ محض ایک ہارمونزکی اتھل پتھل  کی وجہ سے جسے عوام کا سمجھنا تو دور کی بات ہے عام انسان اس کا تلفظ تک ٹھیک طور سے ادا نہیں کرپاتا۔

ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ ہے کہ انسان ایک ان دیکھی اور ان سمجھی  بیماری کے ساتھ اپنے وجود کو زندگی کے پیچ وخم میں گھسیٹتا رہتا ہے لیکن لوگ اسے نارمل سمجھتے ہیں ۔ جب تک وہ سخت بیمار ہوکر بستر پر نہیں پڑتایا موت کے دہانے تک نہیں جاپہنچتا۔

تو آئیے ان کی مدد کرتے ہیں اس طرح کہ خاتون کے علاوہ افراد خانہ اپنے کاموں کے اوقات منظم کرلیں تاکہ کام کرنے والی بچی یا خاتون بد نظمی اور وقت بے وقت کے کاموں کے سبب بہت زیادہ تھکاوٹ کا شکار نہ ہو وقت پر وہ اپنی غذا لے سکے اور وقت پر سو سکے ۔

شوہر اس طرح ساتھ دے  کہ زندگی کے تام جھام اور ان  الجھنوں کو سلجھانے میں اس پر اپنا اعتماد ، محبت اور توجہ کا اظہار کریں موقع بموقع اس کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرتے رہیں تاکہ وہ اندر سے خوش و خرم ہواور اسٹریس کی تباہ کاریاں اس پر اثر انداز نہ ہوں۔

گھر کے افراد دوسرے چھوٹے موٹے کاموں میں خواتین کاہاتھ بٹاکر ان کے کام کے بوجھ کو ہلکا بناسکتے ہیں ۔اولاد سے محروم خواتین کوامید ویقین کے ساتھ طبی امداد فراہم کریں اللہ نے اپنی اس دنیا میں ہر بیماری کی شفا رکھی ہے ہمیں بس اسے تلاشنے کی ضرورت ہے ۔وزن سے پریشان خواتین کا مذاق بنانے کی بجائے ان کا معاون اور گائیڈنس بننے کی ضرورت ہے ۔گاہے گاہے انھیں ان کا گول یاد دلانا ، دن میں کئی مرتبہ انھیں پانی پینے کی تاکید کرنا ، واکنگ، کسرت یا منظم متوازن غذا کے ڈائیٹ پلان کی تیاری میں ان کی مدد کرنا۔ریفائن اشیاء اور میدہ سے تیار شدہ اشیاء کا گھر میں بائیکاٹ کردینا، جنک فوڈ(Junk Food) کی عادت کو اچھے پھلوں سے ریپلیس کرنا وغیرہ وغیرہ۔آپ سب کا ایسا ہی تعاون ایک عورت کو صحت مند بنانے میں درکار ہے تاکہ ہمارا معاشرہ بھی صحت مند بنے ۔

Post Top Ad

Your Ad Spot