Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, February 22, 2021

کیا شبنم علی 1947 کے بعد انڈیا میں پھانسی کی سزا پانے والی پہلی خاتون ہوں گی؟


  • شکیل اختر...بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ..majlis ماخوذ
......................... ۔۔صدائے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبنم علی

اس تحریر میں کچھ تفصیلات چند قارئین کی طبعیت پر گراں گزر سکتی ہیں، یہاں درج تمام واقعہ عدالت میں پیش ہونے والی پولیس تفتیش اور مجرمان کے عدالت کے سامنے اقبالی بیانات پر مشتمل ہیں۔

آج سے لگ بھگ بارہ برس قبل انڈیا کی ریاست اُتر پردیش کے ضلع امروہہ کی رہائشی شبنم علی معمول کے مطابق سکول میں ٹیچنگ کے بعد گھر لوٹیں۔

گھر واپسی کے بعد شام کو انھوں نے اگلے دن کی کلاسز کے لیے کچھ تیاری کی اور اپنے نوٹس کو ترتیب دے کر فائل میں رکھے۔ مگر اس دوران اُن کا ذہن کیسے بھیانک جرم کے تانے بانے بُن رہا تھا اُن کے گھر والوں کو اس کی بِھنک تک نہیں تھی۔

شبنم نے عشا کی آذان کے کچھ ہی دیر بعد رات کا کھانا کھایا۔ اس وقت تک گھر کے سبھی افراد بھی کھانا کھا چکے تھے۔

سونے سے قبل شبنم نے سب اہلخانہ کو پینے کے لیے دودھ دیا۔ گھر والے نہیں جانتے تھے کہ اس دودھ میں بیہوشی کی دوا ملائی گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں تمام گھر والے عالم بیہوشی میں ڈوب گئے ماسوائے شبنم کے دس ماہ کے ایک بھتیجے کے جس کے دودھ میں دوائی نہیں ملائی گئی تھی۔

یہ 14 اور 15 اپریل 2008 کی درمیانی شب تھی۔ منصوبے کا ابتدائی حصہ کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا اور اب شبنم کو بے چینی سے اپنے دوست سلیم کا انتظار تھا۔

سلیم بھی اسی لمحے کا منتظر تھا اور جلد ہی وہ رات کے اندھیرے میں شبنم کے گھر آن پہنچا۔اس کے بعد پیش آنے والا واقعہ شاید انڈیا کی تاریخ میں بہت عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

سلیم نے شبنم کی مدد سے ان کے بیہوش والدہ، والد، دو بھائیوں، ایک بھابھی، ایک خالہ زاد بہن اور ایک بھتیجے کو کلہاڑیوں کے پے در پے وار کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ جبکہ ایک دس سالہ بھتیجے کو شبنم نے خود گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔

ان کے خیال میں خاندان کے سبھی افراد کی ہلاکت کے بعد اب وہ جائیداد اور اپنی زندگی کی تنہا وارث تھیں۔قتل کی اس واردات کے کچھ ہی وقت بعد خود شبنم نے  شور مچا کر اہل محلہ کو جگایا اور دعویٰ کیا کہ نامعلوم حملہ آور اُن کے گھر میں داخل ہوئے اور انھوں نے خاندان کے سبھی لوگوں کو قتل کر دیا۔

دورانِ تفتیش پولیس کو کچھ شک گزرا اور بعدازاں تفتیش  کے دوران شبنم نے اقبال جرم کر لیا کہ اس نے یہ واردات اپنے دوست سلیم کی مدد سے انجام دی۔اس سنسنی خیز قتل اور شبنم کے اعتراف جرم کے بعد سے اب اس گاؤں میں کوئی شخص اپنی بیٹی کا نام شبنم نہیں رکھتا۔

شبنم اور سلیم کے اعتراف جرم کے بعد انھیں موت کی سزا سنائی گئی، اُن کی موت کا وارنٹ اب کسی بھی دن جاری ہونے والا ہے۔

شبنم علی، انڈیا

شبنم اپنے اہل خانہ کے ہمراہ۔۔۔۔۔فائل فوٹو۔

انڈیا کی متھرا جیل میں آزادی کے بعد ملک میں پہلی بار کسی خاتون کو پھانسی دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ 38 سالہ شبنم کی رحم کی اپیلیں مسترد ہو چکی ہے۔ لیکن ابھی پھانسی کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ جلاد نے جیل میں خواتین کی پھانسی دینے کے مختص مقام کا جائزہ لیا ہے کیونکہ اس سے قبل خواتین کے پھانسی گھاٹ پر کوئی پھانسی نہیں دی گئی ہے۔

شبنم اور سلیم کی گرفتاری قتل کی اس واردات کے پانچ روز بعد ہوئی تھی۔ اس وقت دونوں کی عمریں تقرییاً پچیس برس تھیں۔ شبنم اس وقت دو مہینے کی حاملہ تھیں اور جیل ہی میں ان کے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ بچہ اب بارہ برس کا ہے۔شبنم کے بارہ برس کے بیٹے نے جمعرات کو انڈیا کے صدر سے اپنی والدہ کے لیے رحم کی ایک اور اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک اپیل میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں ایک تختی لیے ہوئے تھے جس پر لکھا ہو ا تھا ’راشٹرپتی (صدر) انکل میری ماں کو معاف کر دیجیے۔‘

شبنم کو اپنے گھر کے سات افراد کے قتل کے جرم میں امروہہ کی سیشن کورٹ نے سنہ 2010 میں موت کی سزا سُنائی تھی۔ جنوری 2020 میں سپریم کورٹ نے سزائے موت کی توثیق کر دی تھی۔ ان کی رحم کی اپیل ریاست کے گورنر اور سابق صدر پرنب مکھر جی بھی مسترد کر چکے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ شبنم علی کا تعلق ایک خوشحال سیفی مسلم خاندان سے ہے۔ انھوں نے دو مضامین، جغرافیہ اور انگریزی، میں پوسٹ گریجوئیٹ کیا ہوا ہے۔ وہ سنہ 2008 میں ایک اسکول میں ٹیچر تھیں۔ ان کے گھر کے نزدیک ایک آرا مشین پر سلیم نام کا ایک پٹھان نوجوان کام کرتا تھا جو ساتويں کلاس تک پڑھا ہوا تھا۔ شبنم کے گھر والوں کو سلیم سے ان کے تعلقات پسند نہیں تھے اور وہ اس سے ملنے جلنے کی سخت مخالفت کرتے تھے مگر پولیس کے مطابق شبنم سلیم کے عشق میں مبتلا تھیں۔

شبنم علی، انڈیا

شبنم کے بیٹے کی پیدائش اسی برس جیل میں ہوئی۔ بیٹے نے اپنی زندگی کے ابتدائی چھ برس اپنی والدہ کے ساتھ جیل میں پرورش پائی۔ جیل کے ضوابط کے مطابق چھ برس سے زیادہ عمر کے بچے کو ماں کے ساتھ جیل میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ جیل سے باہر بیٹے کی پرورش بلند شہر کے ایک صحافی عثمان سیفی نے کی ہے۔ ‏‏عثمان شبنم کے سکول اور کالج کے دنوں کے دوست ہیں۔ انھوں نے کئی برس قبل ایک اخبار کے صحافی سے کہا تھا کہ ’جس شبنم کو آپ جانتے ہیں، جسے پھانسی کی سزا کا سامنا ہے، وہ شبنم وہ نہیں ہے جسے میں جانتا ہوں۔‘

’ایک بار جب میں اپنے کالج کی فیس نہیں بھر سکا تھا تو اس وقت شبنم نے میری فیس جمع کی تھی۔ وہ بالکل بڑی بہن کی طرح تھی۔‘

عثمان شبنم کی زندگی پر ایک کتاب لکھنا چاہتے ہیں اور جب انھوں نے دیکھا کہ اُن کے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں ہے تو انھوں نے ان کے بیٹے کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت سے وہ انھیں کے پاس ہے۔ بیٹا اب بارہ برس کا ہو چکا ہے۔ وہ ہر مہینے، دو مہینے بعد اپنی ماں سے ملنے رام پور جیل جاتا ہے۔ وہ کبھی کبھی اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ وہ جیل میں کیوں ہیں۔

وہ اپنے گود لیے ہوئے والدین سے بھی کئی بار اپنی والدہ کے بارے میں سوال پوچھتا ہے۔ حال ہی میں جب اسے معلوم ہوا کہ حکام اس کی والدہ کو پھانسی دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں وہ تب سے گھبرایا ہوا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر صدر سے رحم کی اپیل کی ہے۔ادھر شبنم کے دو وکیلوں نے جمعرات کو رام پور جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کر کے شبنم کے لیے ریاستی گورنر سے ایک بار پھر رحم کی اپیل داخل کی ہے۔ اطلاع کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اب یہ اپیل گورنر کو بھیجیں گے۔

اس دوران متھرا جیل میں شبنم کو پھانسی دینے کے لیے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ جلاد نے جیل میں واقع خواتین کو پھانسی دیے جانے کے مقام کا دوبار جائزہ لیا ہے۔ متھرا جیل کے سپرنٹنڈنٹ شبنم کی موت کا وارنٹ جاری کیے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اتر پردیش میں صرف متھرا جیل ہی ایک ایسا مقام جہاں خواتین کے لیے مختص پھانسی گھاٹ کا انتظام ہے۔ اگر شبنم کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو وہ آزاد انڈیا کی تاريخ کی پہلی خاتون ہوں گی جنھیں پھانسی کی سزا دی جائے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot