Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, February 21, 2021

بین ‏الاقوامی ‏یوم ‏مادری ‏زبان ‏کے ‏موقع ‏پر ‏پوروانچل ‏یونیورسٹی ‏میں ‏ویبنار ‏کا ‏انعقاد۔

جون پور ۔۔اتر پردیش /صدائے وقت ۔۔21 فروری 2021
+++++++++++++++++++++++++++++++++++
 ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کی جانب سے یوم بین الاقوامی مادری زبان کے موقع پر زبان کے فروغ میں ترجمہ کے کردار سے متعلق ایک ویبینار کا انعقاد کیا گیا۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نرملا ایس موریہ نے کہا کہ روایتی ادب، روایتی کہانیاں، روایتی گیتوں کے تحفظ کے لئے ترجمہ کا ایک اہم کردار ہے۔ ہم نے علامتی زبان سے آن لائن کمپیوٹر زبان تک سفر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے، ہم سب کو زبانوں کے تحفظ اور ختم ہوئی زبانوں کو بچانے کے لئے آگے آنا ہوگا۔بی ایچ یو کے شعبہ ہندی کے صدرپروفیسر انوپ واششٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تخلیقی صلاحیت سے زیادہ ترجمہ ایک بڑا کام ہے۔ دو زبانوں کے علم کے ساتھ ساتھ اس کی ثقافت، نوعیت اور روایت پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ترجمہ خالص علم ہے اور اس میں حساسیت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ جذباتی تبادلہ مادری زبان ہے۔ مادری زبان کو اسی وقت وسعت دی جاسکتی ہے جب ترجمہ کی اسکیم پر زمینی سطح پر کام کیا جائے۔ معروف ٹریول مصنف ڈاکٹر کائنات قاضی نے کہا کہ علم کے پھیلاؤ میں زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مترجمین کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان پانی کی طرح ہے، اگر اس کا بہاؤ رکا گیا تو وہ ختم ہوجائے گی۔ مادری زبان کی اہمیت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمیزون اور فلپکارٹ جیسی بین الاقوامی سطح کی کمپنیاں علاقائی زبانوں میں اپنی خدمات پیش کررہی ہیں۔ ویبنار میں پروفیسر مانس پانڈے، پروفیسر اویناش پارتھڈکر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ویبنار میں ڈاکٹر دگ وجے سنگھ راٹھور، پروفیسر دیوراج سنگھ، پروفیسر راجیش شرما، ڈاکٹر راکیش یادو، ڈاکٹر جگ دیو، ڈاکٹر پرمود یادو، ڈاکٹر منیش گپتا، ڈاکٹر رشی کیش، ڈاکٹر جانہوی سریواستو، انو تیاگی، ڈاکٹر منوج پانڈے، ڈاکٹر رادھا اوجھا، ڈاکٹر اود بہاری سنگھ سمیت تمام افراد طلباء موجود رہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot