Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, March 18, 2021

لفظ ‏" ‏خدا" ‏کا ‏استعمال۔۔۔۔۔

از / مقبول احمد سلفی۔/ صدائے وقت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ خدا نہ تو اللہ کا ذاتی نام ہے اور نہ ہی صفاتی ، یہ لفظ شریعت میں کہیں بھی وارد نہیں ۔برصغیر اور فارس میں اکثر لوگ اور علماء طبقہ اللہ تعالی کے لئے اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ فارسی لفظ ہے اور فارسی میں یہ لفظ غیراللہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مثلا بیوی اپنے شوہر کو مجازی خدا کہتی ہے، کشتی کے ملاح کو ناخدا کہتے ہیں ، شعراء و ادباء کو خدائے سخن کہا جاتا ہے ۔
اور خرابی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ مجوسیوں کے عقیدہ کے مطابق دو خدا ہیں ایک ہزداں(اچھائی کا خدا) اور دوسرا اہرمن (برائی کا خدا) ۔ اور اللہ تعالی ان تما م عبوب و نقائص اور کسی کی ادنی شرکت سے بھی پاک و بری ہے ۔لفظ خدا موجودہ دور میں اتنا عام ہو گیا ہے کہ اگر لوگوں کو لفظ خدا کی نفی کے بارے میں کہا جائے تو اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے علماء بھی تو خدا کہتے ہیں اور کتابوں میں لکھتے ہیں تو کیا یہ غلط ہیں .....؟
لفظ خدا نہ قرآن میں ہے اور نہ کسی بھی حدیث کی کتاب میں ہے تو ہم مسلمانوں کو کیا مجبوری ہے کہ ہم آتش پرستوں والا نام خدا اپنے اللہ کے لئے بولیں اور لکھیں اور یہ دین میں اضافہ بھی ہے،بھلے لفظ خدا کئی سالوں سے بولا جاتا رہا ہو، کیونکہ لفظ خدا نہ قرآن میں ہے نہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ہے،نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے استعمال کیا،نہ تابعین نے اور نہ سلف صالحین نے لفظ خدا استعمال کیا،اس لئے دین میں اضافہ ہے، اور اللہ کے ذاتی نام کو چھوڑ کر غیر اللہ کے نام کا استعمال ہے، جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔
کئی لوگ کہتے ہیں کہ خدا پہچان کے طور پر بولا جاتا ہے جیسے: گوڈ وغیرہ .
تو عرض ہے کہ جو مسلمان ہے اس کو لفظ۔ اللہ۔ کی پہچان بہت خوب ہو تی ہے کیونکہ نماز اور تلاوت قرآن کے دوران کتنی دفعہ اللہ کو یاد کیا جاتا ہے۔ مسلمان بھلے ملک فارس کا ہو یا انگریز، ہر زبان اور نسل کا مسلمان خوب جانتا ہے،کہ ہمارے خالق حقیقی کا نام اللہ ہے۔ بس یہ کچھ لوگوں کی بناوٹی باتیں اور حیلے بہانے ہوتے ہیں کہ قرآن اور صحیح احادیث کے دلائل ہو تے ہوئے بھی صحیح بات کو نہیں مانتے اور پھر غلط بات پر غلط دلائل دے کر اڑے رہتے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالی نے ہدایت اور سمجھ دی ہو ان کے لئے قرآن کی صرف ایک آیت ہی دلیل کے لئے کافی ہے۔

آئیے اس کو مزید سمجھنے کے لئے قرآن کریم کی آیت دیکھتے ہیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :

٭"اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لئے ہیں،پس ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو،اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی"۔ (اعراف: 180)

ایک دوسری جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

٭"کہہ دیجئے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، جس نام سے پکارو تمام اچھے نام اس کے ہیں" ... (بنی اسرائیل / اسراء: 110)

ان دونوں قرآنی آیتوں میں اللہ کے ذاتی اور صفاتی ناموں سے پکارنے کا حکم دیا گیا ہے،اور اللہ کے ناموں میں کج روی کرنے والوں کے لئے سزا ہے بلکہ اللہ کے پاک ناموں میں کج روی کرنے والوں سے لا تعلقی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک اور نقطے پہ غور فرمائیں:

٭ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ملک فارس سے مدینہ طیبہ گئے تھے۔ اس وقت بھی فارس میں خدا تھے اور اور اپنے معبود کے لئے وہ لوگ یہی لفظ خدا ہی بولا کرتے تھے، اس کے باوجود بھی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی اپنے خالق حقیقی کے لئے لفظ۔ خدا۔ استعمال نہ کیا۔ اگر لفظ خدا کہنا صحیح ہوتا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس لفظ کو ضرور کہتے مگر قربان جائیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات و ایمان پر کہ امام کائنات محمد رسول اللہ ﷺ نے جو فرما دیا وہی ان کا ایمان و عمل بن گیا۔ انہوں نے اپنی طرف سے کو ئی نہ اضافہ کیا اور اضافہ کو نامناسب سمجھا،اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بعد کی پیداوار ہے۔ اس کے بعد اب ہمیں یہ سمجھنے میں قطعی دشواری نہیں کہ ہم غیر اللہ کے ناموں سے پرہیز کریں تاکہ اللہ کی سزا سے بھی بچ سکیں۔اوراس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ اللہ ہمارے رب کا ذاتی ہے اور اس کے علاوہ بے شمار صفاتی نام قرآن وحدیث میں وارد ہوئے ہیں ، اس لئے خود بھی لفظ خدا اپنی زبانوں سے ختم کریں اور جو بھی کوئی آپ کے سامنے خدا بولے اس کو بھی احسن طریقے سے دلائل کے ساتھ سمجھائیں اور ہمیشہ اپنے خالق حقیقی کو ذاتی نام اللہ سے یا صفاتی ناموں سے پکاریں اور اگر کسی کتاب میں خدا لکھا ہو تو پڑھتے وقت اللہ پڑھیں اور اس طرح کی تبلیغ عام کریں۔
شریعت کا حکم ہے حق کو قائم کریں اور باطل کا قلع قمع کریں کیونکہ ہمارا دین کامل و اکمل ہے نہ اس میں اضافے کی ضرورت ہے اورنہ اضافہ کا امکان۔اللہ تعالی ہم سب کو دین میں نئی چیز ایجاد کرنےیا اس کی حمایت کرنے یا اس پر عمل کرنے سے بچائے کیونکہ دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور بدعت جہنم میں لے جانے والی ہے ۔آمين

Post Top Ad

Your Ad Spot