Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, April 29, 2021

ضلع ‏میں ‏ صحت ‏کا ‏ نظام ‏ درہم ‏ برہم ‏. ‏. ‏ پرائیوٹ ‏ ایمبولینس ‏کے ‏ مالکان بنے ‏ہونے ‏ ہیں ‏ فرشتہ ‏

جون پور.. اتر پردیش /صدائے وقت /ذرائع /29 اپریل 2021. 
==============================
ضلع میں صحت کا نظام پوری طرح سے پٹری سے اتر چکا ہے۔ضلع اسپتال میں آنے والے مریضوں کیلئے ڈاکٹروں نے ہاتھ کھڑا کر دیا تو پرائیویٹ ایمبولنس کے مالک فرشتہ بنے ہوئے ہیں۔اسپتال میں دوا،علاج اور آکسیجن نہیں ملنے کی وجہ سے مریضوں کی جان بچانے کی کوشش یہی ایمبولنس مالکان ہی کر رہے ہیں اور مفت میں آکسیجن مہیا کرا رہے ہیں۔اس معاملے میں نہ ہی اسپتال انتظامیہ کچھ بولنے کو تیار ہے اور نہ ہی ضلع کے اعلی افسر میڈیا سے بات کرنے کو تیا رہے۔
واضح ہو کہ ایک طرف صوبے کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ دعوی کر رہے ہیں کہ صوبے کے اسپتالوں میں آکسیجن اور بیڈ کی کمی نہیں ہے اور ان کا سخت حکم ہے کہ مریضوں کو فوری طور پر بھرتی کر ان کا علاج کیا جائے،لیکن وزیر اعلی کی ہدایت کا کتنا اثر ہے یہ ضلع اسپتال میں ہر فرد دیکھ سکتا ہے۔عالم یہ ہے کہ ضلع اسپتال کے باہر کی فرش پر درجن بھر مریض علاج کے انتظار میں بغیر بیڈ اور آکسیجن کے پڑے ہوئے ہیں۔ایسے میں پرائیویٹ ایمبولنس کا مالک وکی اگرہری ان کے لئے مسیحا بن کر سامنے آیا۔وکی اگرہری مفت میں مریضوں کو آکسیجن لگا کر ان کی زندگی کو بچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔انھیں مریضوں میں ایک سنگین مریض رماشنکر تیواری کے بیٹے رشی کیش تیواری نے بتایا کہ ان کے والدکا آکسیجن لیول55ہے،ان کے علاج کیلئے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا لیکن وہاں پر آکسیجن کھالی نہیں تھا۔ڈاکٹروں نے کہا کہ بیڈ کھالی ہونے پر بھرتی کیا جائے گا اور بغیر کسی علاج کے باہر بھیج دیا گیا۔ادھر مفت آکسیجن مہیا کرانے والے ایمبولنس مالک وکی اگرہری نے بتایا کہ ان کا مقصد مریضوں کی جان بچانا ہے۔پیسہ کمانے کیلئے پوری زندگی ہے لیکن اس ہال میں لوگوں کی مدد کرخوشی کمانا ہی مقصد بنا ہوا ہے۔اس نے بتایا کہ صبح سے ذاتی پیسے سے 28سے 30مریضو ں کو آکسیجن مہیا کرایاہے۔

Post Top Ad

Your Ad Spot