Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Sunday, April 4, 2021

مولانا صہیب احمد صاحب جونپوری بھی راہی آخرت ہوگئے



از/شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی/صدائے وقت 
+++++++++++++++++++++++++++++
شاید یہ ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ،اور بے تحاشا ایمان ویقین کے حصار سے نکل کر دنیا اور حطام دنیا کے حصول کی شکل میں فکری ونظری انحراف کا اثر ہے،کہ نہایت تیز رفتاری سے اساطین امت
اور اکابرین ملت اس ناپائیدار دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی طرف روانہ ہو رہے ہیں، ابھی ایک رہنما کی رحلت کے غم کے اندھیروں سے ملت نکل نہیں پاتی کہ دوسری شخصیت کی جدائی کا سانحہ وجود میں آجاتا ہے۔
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے
کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلنے سنبھلتے
 اس وقت ہماری صورت حال ایسی ہی ہے کہ ایک میر کارواں کی رحلت کا زخم بھرتا نہیں ہے کہ امت کے اجسام پر ایک اور کاری ضرب لگ جاتی ہے، اور ذہن سے لیکر دماغ تک اور قلب سے روح تک  کی مملکت تک میں اداسیوں کی فضا چھا جاتی ہے، اور ایسے وقت میں جب ملت ہر طرف سے اغیار کے سفاکانہ منصوبوں کے نرغے میں ہو اور ہر سو نفرتوں کی آندھیاں چل رہی ہو،تو عزم وہمت کے قافلوں اور تاریخ ساز اعاظم رجال کی فرقتوں کا درد مزید بڑھ جاتا ہے،اداسیوں کے سائے گہرے اور رنج وغم کی تاریکیاں طویل اور مہیب ہوجاتی ہیں۔
گذشتہ کل 3/اپریل 2021/بروز شنبہ ہندوستان کی قد آور شخصیت کی رحلت سے پوری ملت سوگوار تھی کرب واضطراب اور درد والم کی کیفیت ابھی شباب ہی پر تھی کہ شام تک مہاراشٹر کی ہردلعزیز شخصیت،جلیل القدر عالم دین،تبلیغی جماعت کے اہم ذمہ دار،دارالفلاح ممبرا جیسے اہم تعلیمی وتبلیغی ارادے کے بانی و مہتمم مولانا صہیب احمد صاحب قاسمی کے سانحہ ارتحال کی خبر آگئی۔
اہل ممبرا نہیں بلکہ پورے صوبہ  مہاراشٹرکے علمی ودینی اور تبلیغی حلقوں میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی، درسگاہیں تو حکومتی فیصلوں کے باعث ویسے بھی سنسان تھیں مگر اس خبر نے مزید ویرانی کا ماحول پیدا کردیا کہ ابھی تو اہل ممبئی کو ان کی سخت ضرورت تھی،ابھی ان کی رہنمائیوں کا دینی طبقہ شدت سے محتاج تھا،

مولانا صہیب احمد صاحب جونپوری بڑے عالم دین،صبر واستقامت اور عمل پیہم کے پیکر، جہد مسلسل،بلند افعال و کردار، دین پر پہاڑوں جیسی صلابت، اورچٹان صفت عزم وہمت کا خوبصورت مجسمہ تھے، وہ ایک کامیاب مدرس بھی تھے اور فصیح اللسان خطیب بھی،ایک باکمال منتظم ومدبر بھی تھے اور دلوں کی دنیا بدل دینے والے داعی اسلام بھی، اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان میں بہت تاثیر رکھی تھی،ایک طرف مسلسل عمل اور لگن،تڑپ ،جذبات اور دھن کا سرمایہ ان کے پاس تھا دوسری طرف نیت کی پاکیزگی،اخلاص کی دولت اور رضائے الہٰی کی فکر کا اثاثہ تھا ان اوصاف نے ان کے عزم میں قوت وطاقت فراہم کی، سرگرمیوں میں برکت عطا کی،
پھر اس کا اثر زمانے نے دیکھا کہ ممبرا تھانے میں بے سروسامانی کے عالم میں علم کا چراغ ان کے ذریعے روشن ہوا تو اس کی کرنیں پورے مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلیں،اورآج بھی پوری شان سے دارالفلاح ممبرا کے نام سے یہ شاداب گلستاں
فضاؤں میں علم کی،اصلاح وارشاد کی اور دعوت وتبلیغ کی خوشبو بکھیر رہا ہے، یہ کارنامہ اس قدر عظیم الشان ہے،اور اتنا اہم ہے کہ مولانا صہیب احمد صاحب قاسمی مرحوم کی زندگی کو جاوداں اور دوام آشنا کرنے کے لئے کافی ہے۔

مولانا صہیب احمد صاحب قاسمی مرحوم شیراز ہند جونپور کی ایک مردم خیز بستی لپری میں 1963/کو پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اور عربی متوسطات کی تعلیم مدرسہ بدرالاسلام شاہ گنج جو اس وقت علاقے میں علم کی بہار لٹا رہا تھا اور علمی وادبی اعتبار سے شباب کی منزلوں میں تھا،میں حاصل کی،بعد ازاں فضیلت کے لئے دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ شاہی مرادآباد تشریف لے گئے اور مدرسہ شاہی سے ہی سند فراغت حاصل کی ،تعلیم وتعلم کی رسمی فراغت کے بعد
ذریعۂ معاش کی تلاش میں خلیج کے ارادے سے ممبئی آئے،مگر قدرت کی مشیت یہ تھی کہ آپ کے ذریعے علاقے ممبرا کی ہدایت کا سامان ہو، بالآخر تقدیر نے اس علاقے میں پہونچا دیا یہاں ایک چھوٹی مسجد تھی اس میں امامت کے فریضے پر مامور ہوئے،جس جگہ مسجد تھی وہ علاقہ بالکل غیر آباد اور ویران تھا،آبادی تھی بھی تو جہالت وبدعات میں ڈوبی ہوئی، بظاہر یہاں سکون کا سرمایہ تھا نہ ہی ترقی کا کوئی امکان، مگر جب عزم جواں ہو اور جذبات بیکراں ہوں تو جانفشانیوں کے آگے راستے کے سنگریزے گرد بن کر اڑ جاتے ہیں۔
مولانا مرحوم نے توکل علی اللہ کے سہارے زندگی کا پڑاؤ یہیں ڈال دیا اور محنت وسرگرمی میں جسم وجان سے منہمک ہوگئے، برسوں کی محنت شاقہ اور بے نظیر قربانیاں رنگ لائیں، انھوں نے دلسوزی کے ساتھ لوگوں میں دین کا رجحان پیدا کیا،علم کی فضا قائم کی،تعلیم کی طرف عوام کو ابھارا،موثر گفتگو،اوراپنے اخلاق وکردار کے ذریعے لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کیا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ آپ کی دلنشین تقریروں کے نتیجے میں خلقت کی خلقت اللہ جل شانہ کی بارگاہ کی طرف متوجہ ہوئی،مسجدوں کا رخ کیا،یہاں تک کہ مسجد تنگ ہوگئی،
مولانا مرحوم نے مسجد کی توسیع کی اور بہت شاندار انداز میں اس کی تعمیر کی عمدہ قسم کے پتھروں سے اس کی تزئین وآرائش کی،
اسے تبلیغ کا مرکز بنایا، علاقے کے بچوں کے دینی مستقبل کے پیش نظر منظم انداز میں مکتب قائم کیا، ٹھوس تعلیم کا انتظام کیا،باصلاحیت اساتذہ کی اس سلسلے میں خدمات لیں، شعبہ حفظ کی درسگاہ بھی اسی مسجد میں قائم کی، پھر کچھ ہی عرصہ بعد عربی شعبے کا بھی قیام عمل میں آیا، تعلیم کی مضبوطی اور انتظام کے استحکام کی شہرت اس طرح پھیلی کہ مسجدایک بار پھر  تنگ دامانی کا شکوہ کرنے لگی۔مولانا مرحوم نے اسے وسعت دینے کے لئے الگ سے پانچ منزل پر مشتمل خوبصورت اور شاندار عمارت بنوائی جو تمام سہولیات سے آراستہ ہے، پھر اسی بلڈنگ میں شعبہ عربی اور کتابوں کی لائیبریری اور شعبہ نشرواشاعت اور دفاتر کو منتقل کردیا،اس شعبے میں اس وقت مشکوٰۃ تک کی تعلیم کا عمدہ انتظام ہے،ادارے کی ترقی کے لئے نہایت قابل اساتذہ موجود ہیں،
مولانا مرحوم کی نگاہیں جس طرح دینی تعلیم وتربیت پر مرکوز تھیں اسی طرح حالات حاضرہ کی نزاکتیں اور زمانے کے تقاضے بھی ان کی دسترس میں تھے،انھوں نے ملت اسلامیہ کی ترقی کے لئے عصری تعلیم کے حصول کی ضرورت کو محسوس کیا اس کے لئے انھوں نے النادی الفلاح کے نام سے عصری ادارے کی بنا رکھی،نظم وضبط،اصلاح وتربیت اور تعلیم کی مضبوطی کی وجہ سے یہ اسکول بھی بہت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوا اس وقت بارہویں جماعت تک تعلیم ہوتی ہے اور سیکڑوں طلباء اس سے فیضیاب ہورہے ہیں۔

ان قابل قدر اورعلمی و تاریخی کارناموں کی وجہ سے علاقے میں علم کی فضا قائم ہوئی،تعلیم کی طرف لوگوں کا رجحان ہوا، دینی ماحول پیدا ہوا، دینی احکامات پر عمل کرنے کا جذبہ بیدار ہوا،علم کے زمزمے گونجے،اور دین کی باد بہاری کشت زار قلب وروح لہلہا اٹھی۔
مولانا مرحوم بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے، کروفر سے کوسوں دور تھے،نہایت متواضع،ملنسار اور خلیق تھے، مزاج میں نرمی اور ذوق میں حلاوت تھی،یہی وجہ ہے کہ ان سے جو بھی ملتا وہ خوشگوار اثرات کے ساتھ واپس ہوتا،علما کے وہ بہت قدر داں تھے
اسی طرح وہ عوام کے مزاج کا بھی خیال رکھتے تھے،ادھر کئی سال سے وہ بہت کمزور ہوچکے تھے چلنا پھرنا بہت مشکل ہوچکا تھا ایک سال قبل دارالفلاح میں بزرگ دوست مولانا محمد امجد صاحب کی دعوت پر وہاں حاضری ہوئی عشاء کی نماز کے وقت مولانا مسجد میں اس حال میں تشریف لائے کہ دوشخص نے ان کے دونوں جانب سے سہارا دے رکھا تھا،مگر اس حالت میں بھی انہیں جماعت کا چھوڑنا گوارا نہیں ہوا اس سے آپ کے ذوق عبادت اور نماز سے تعلق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

دنیا میں کسی شے کی آمد اس کے جانے کی تمہید ہے، مولانا محمد صہیب احمد صاحب کی زندگی کا سفر پورا ہوچکا تھا بالآخراہل دنیا کو دین وشریعت اور علم وہنر کی سوغات دے کر آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے۔اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے آمین

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
مسجد انوار گوونڈی ممبئی
4/اپریل 2021/بروز یکشنبہ

Post Top Ad

Your Ad Spot