Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Monday, May 3, 2021

*تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے*


        *حضرت مولانا عبد الرب صاحبؒ سلطان پوری کا سانحہ وفات*        
*محمد اسعد قاسمی  سلطان پوری*
       ‏_____________________
                   صدائے وقت. 
++++++++++++++++++++++++++++
  سرکاردوجہاں کا یہ فرمان کس قدر جامع اور سچا ہے کہ ایک عالم دین کی موت پورے عالم کی موت ہے،موت العالم موت العالم،،
  بتاریخ 15رمضان المبارک 28؍اپریل بروزِ بدھ شب 10بج کر 10 منٹ پر *حضرت مولانا عبدالرب صاحب قاسمى نوراللہ مرقدہ سابق مہتمم مدرسہ عربیہ دعوۃ الحق دوست پور* اپنی مختصر علالت کے بعد اچانک دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔ 
موت ایک ایسی حقیقت ہے جسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں، یہ خبر منٹوں میں ملک کے گوشے گوشے میں، جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر شخص نے بڑے افسوس کے ساتھ اس خبر کو پڑھا اور سنا اور دوسروں کو بتایا۔
موت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ 
لیکن ان جانے والوں میں کچھ شخصیتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے چلے جانے سے ایک عہد اور ایک تاریخ کا خاتمہ ہوجاتا ہے اپنی لازوال خدمات کی وجہ سے وقت کے سینے پر وہ اس طرح نقش ہوجاتا ہےکہ زمانے کی گردشیں ان نقوش کو مٹانے سے عاجز ہوجاتی ہیں، ان کے کارنامے انکو زندہ رکھتے ہیں،  ظاہری اعتبار سے انکے زندگی کا چراغ یقینا غل ہوجاتا ہے لیکن حقیقی اعتبار سے وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کےلئے جاوداں ہوجاتے ہیں۔

انھیں میں سے ایک نمایاں نام ہم سب کے استاذ محترم حضرت مولانا عبدالرب صاحب قاسمى کا بھی ہے جن کی تدریس و تقریر نے علاقے کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ قلیل مدت میں جن کے چشمئہ علم و عرفاں نے انسانی قلوب کی سوکھی ہوئی ہوئی کھیتوں کو سیراب کیا ہے اور ایمان و یقین،  عقیدہ اور علم و تحقیق اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کے ذریعہ انہیں شاداب کیا ہے۔

مولانا عبدالرب صاحب باکمال عالم دین تھے اور فیض رساں مدرس،  دلوں میں ایمانی حرارت پیدا کرنے والے خطیب و مقرر بھی تھے اس کے علاوہ بلند تخیل گہری بصیرت،  اعلٰی فکر و سوچ کے حامل تھے درس نظامی کے تمام کتابوں پر دسترس حاصل تھی، ان کی ذات متعدد کمالات کا مجموعہ تھی مگر جس چیز اور جس وصف نے انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کیا وہ ان کی تقریری تدریسی صلاحیت،  فن پر عبور اور موضوعات و مباحث،  نیز کتابوں کے مضامین کی تشریحات قدرت اور ان علوم و فنون پر حیرت انگیز مہارت تھی۔ وہ پیچیدہ اور دقیق مسائل و فنون کو آسان انداز میں ذہنوں میں اتار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے ان کی ذات سے فائدہ اٹھانے والے اور ان کے فیضان سے مستفیض ہونے والے پروانے ان کی ذات کے اسیر ہوکر رہ گئے۔

ان اوصاف کے علاوہ حضرت مولانا عبدالرب صاحب اعلٰی اخلاق و بلند کردار کے حامل، اور انسانیت کے اعلٰی قدروں کے امین بھی تھے ۔ وہ بلا مسلک و مذہب اور بلا تفریق ذات پات صرف انسانیت کی بنیاد پر سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔ ان کے یہاں کیا امیر کیا غریب ، کیا بڑا کیا چھوٹا اور کیا دوست اور دشمن سب ان کی مجلسوں میں آتے تھے اور سب کے ساتھ ان کے مرتبے کے اعتبار سے پیش آتے تھے۔وہ نہایت سادہ متواضع،  بے نفس تھے۔ ان کے یہاں کسی قسم کا کرو فر تھا نہ ہی نمود نمائش کا گذر۔ بالکل سادہ مزاج ان کی زندگی کردار دلبرانہ اور اوصاف قلندرانہ کا روشن نمونہ تھی۔ اپنے تلامذہ اور شاگردوں سے بے پناہ محبت کرتے ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ان کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ان سے روابط رکھتے،  بڑے اور بزرگوں کا احترام و قدردانی اور چھوٹوں پر شفقت ان کی زندگی کے نمایاں عنوان تھے۔


مولانا قاسمى1964 کو ضلع سلطان پور کے گاؤں کیتھاواں میں پیدا ہوئے خاندان اگر چہ علمی نہیں تھا مگر والدہ محترمہ ایک دینی علمی گھرانے سے ہونے کی وجہ سے گھر کے اندر دین و شریعت کے نغموں سے فضا معمور تھی، مولانا مرحوم کے نانا جان مولوی عبد الجلیل مرحوم گاوں کے مکتب کے ناظم تھے نہایت متقی پرہیز گار اور بزرگوں سے تعلق رکھنے والے تھے،  حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب جونپوری ؒ سے اصلاحی تعلق تھا اسی تعلق کیوجہ سے گھر پر بھی حضرت کی تشریف آوری ہوئی تھی۔ حضرت جونپوریؒ کے بعد محی السنہ حضرت  مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ سے اصلاحی تعلق قائم ہوا اور حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ مرحوم کے دونوں ماموں  مولانا محفوظ الرحمن صاحب اور مولانا عتیق الرحمن صاحب عالم دین اور زبردست صلاحیت کے مالک ہیں انھیں کی توجہات  نے آپ کے لئے دینی علوم کے  راستے ہموار کئے۔

چنانچہ مکتب کی تعلیم کا آغاز اپنے نانیھال مدرسہ امدادالعلوم بتھرہ سے کیا , پرائمری کے بعد حفظ قرآن کے لئے شہر اعظم گڑھ کے مشہور قصبہ سرائمیر کے دامن میں واقع مدرسہ عربیہ بیت العلوم میں داخل ہوئے اور وہیں پرحافظ نعیم اللہ صاحب سے حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسی ادارے میں اپنے ماموں محترم حضرت الاستاذ مولانا محفوظ الرحمن صاحب کی زیر نگرانی میں عربی شعبہ میں داخل ہوگئے فارسی لیکر مشکوۃ شریف تک تعلیم حاصل کی اور وہاں کے جید علماء کرام سے مستفیض ہوئے آپکے اساتذۂ کرام میں حضرت اقدس مفتی سجاد نوراللہ مرقدہ، مولانا عبدالقیوم صاحب بکھراوی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محفوظ الرحمن صاحب،  مولانا عبدالرشید صاحب ، حافظ بخشیش صاحب وغیرہ حضرات قابل ذکر ہیں۔
1986 میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں دورہ حدیث میں داخلہ لیا اور اس عظیم ادارے کے موجود علم کے آفتاب و ماہتاب جید اساتذۂ کرام سے خاص طور سے شیخ نصیر احمد خان صاحب،  شیخ عبد الحق صاحب اعظمی،  مولانا نعمت اللہ صاحب مفتی سعید صاحب اور مولانا ارشد مدنی صاحب سے فیض حاصل کیا اور 1987 میں فارغ ہوئے۔ فراغت کے بعد بحکم مفتی سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا حکیم ادریس صاحب کی خواہش پر مدرسہ عربیہ دعوۃ الحق دوست پور تشریف لائے اور بقول مولانا عبدالرشید صاحب مظاہری کے "میں نے انھیں مفتی سجاد صاحب کی ایماء پر دوست پور لیکر آیا اور ان کی تقرری کرایا " بحیثیت استاذ مقرر ہوئے اور تدریس سے وابستہ ہوگئے  بعد میں صدر مدرس اور اسکے بعد مدرسہ کے مسند اہتمام پر فائز ہوئے۔ یہاں آنے کے بعد آپ نے اور کہیں نگاہ نہیں کی اور یہیں کے ہوکر رہ گئے اور زندگی کے آخری سانس تک علم و عرفاں کےدریا بہائے۔  تقریر وتدریس اور اصلاح وتربیت کے ذریعہ بےبشمار لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب پیداکیا اپنی انقلابی تقریر سے مردہ دلوں میں روح پھونک دی خوابیدہ قلوب کو بیدار کیا علاقے سے بدعت و خرافات کا خاتمہ کیا ایمان کی شمعیں روشن کیں اور لوگوں کو سیدھے راستے پر گامزن کیا۔
آپ نے گویا وہ کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی آپ جس وقت دوست پور تشریف لائے دوست پور و اطراف میں علم سے دوری بدعت و خرافات کا دور دورہ تھا ہر طرف باطل کی للکار تھی لیکن آپ نے اللہ کی رضا کے لئے دن اور رات کی انتھک محنت اور کوشش سے ان کی للکار کو اپنی للکار سے دبادیا شہر شہر گاؤں گاؤں 
بستی بستی حتی کی دروازہ دروازہ جاکر لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کے لئے کوشش کرتے رہے اور اپنی تقریر سے بیدار کرتے رہے اور لوگوں کے درمیان علم دین کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آپکی اسی محنت اور لگن نے ضلع اور دوسرے ضلع کے بعض گاؤں اور علاقہ جس کی اسلامی اعتبار سے کوئی شناخت نہیں تھی لیکن وہاں پر آپ نے مسجدیں بنوائیں اور مکتب کا نظام قائم کیا تاکہ وہاں کے مسلمان نماز پڑھ سکیں اور اپنے دینی تشخص کو قائم کرسکیں اس کام میں مرحوم کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالسلام صاحب کا بھی مکمل ساتھ رہا اور ان کی بھی قربانی رہی۔

مولانا مرحوم سیاسی اعتبار سے اپنا اثر و رسوخ رکھتے تھے علاقے اور ضلع کے مسائل کو حل کرنے اور قوم وملت کی خدمت کرنے اور ان کو سلجھانے کے لئے اپنے تعلقات کا استعمال کرتے اور اپنی سیاسی بصیرت سے بہت آسانی کے ساتھ حل کردیتے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ علاقہ اور ضلع کے اکثر لوگ حضرت مولانا سے بہت فائدہ اٹھاتے یہاں تک  کہ سیاسی لوگوں کا ایک ہجوم آپکے ساتھ رہتا تھا کیا ایم ایل اے اور کیا ایم پی  بڑے سے بڑے سیاسی رہنما آپ سے ملنے اور آپکی دعائیں لینے آتے تھے۔

راقم سطور حضرت مولانا کو اپنی کم سنی سے جانتا تھا چونکہ مولانا کا نانیھال اور بندہ کا نانیھال ایک ہی ہے والدہ محترمہ کے حقیقی پھوپھی زاد بھائی تھے گھر اور اس گاؤں میں برابر آنا جانا رہتا تھا پروگرام کے حوالے سے اور دوسرے مواقع پر بھی لیکن  بندہ جب مدرسہ عربیہ دعوۃ الحق میں داخلہ لیا اس وقت قریب سے دیکھنے کو ملا ، حفظ کے دوران پارہ مکمل ہونے کے بعد امتحان دینے کے لئے دفتر میں جانا ہوتا تو کبھی کبھی حضرت ہی امتحان لیتے اور ایک مرتبہ جب بندہ پارہ 29 کا امتحان دینے گیا اور امتحان کی کاپی جس پر تاثرات لکھا جاتا تھا حضرت کو دیا جسے دیکھ کر حضرت والا نے فرمایا شاید یہ پہلا بندہ ہوگا جس کے پاس پارہ 1 سے لیکر 29 تک کے تاثرات لکھی ہوئی کاپی موجود ہے اور اس پر خوشی کا بھی اظہار فرمایا جو میرے لئے فخر کی بات تھی۔
حفظ کے بعد جب عربی درجات میں داخلہ لیا اور مولانا مرحوم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا موقع ملا یہ ہمارے لئے بڑی سعادت کی بات ہے فارسی سے لیکر عربی ششم تک مختلف علوم و فنون کی کتابوں کو پڑھنے اور فیض اٹھانے کا موقع ملا تب آپ کی صلاحیتوں کے جلوے پورے جمال کے ساتھ نگاہوں کے سامنے آئے،دوران درس آپ بڑی قیمتی اور نایاب باتیں بتایا کرتے تھے اور تدریس کا ملکہ ایسا تھا کہ دقیق مسائل کو آسانی سے سمجھادیتے اور طالب علم آپکی تشریحات سے مطمئن ہوجاتے۔ طالب علم جب درسگاہ سے اٹھتے تو ان کا دامن علوم سے بھرا ہوا ہوتا۔

انتظامی امور میں حضرت کو بہت بصیرت تھی جس وقت آپ نے مدرسہ کے انتظامی امور کو سنبھالا اس وقت مدرسہ کے پاس درسگاہوں کی کمی ، دارالاقامہ کی پریشانی اور اساتذہ کی تنخواہوں کی قلت گویا کہ ہر اعتبار سے مدرسہ تنزلی اور خستہ حالی کا شکار تھا لیکن آپ کے اخلاص اور انتھک محنت سے کچھ ہی سالوں میں مدرسہ کو وہ ترقی ملی کہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ مہمان رسول کےرہنے کے لئے دو منزلہ خوبصورت اور پرشکوہ عمارت اور ہر اعتبار سے سہولیات، درسگاہوں کا انتظام اور مدرسہ کےلئے ایک خوبصورت مسجد کی تعمیر، اساتذہ کے تنخواہوں میں اضافہ، اور مطبخ کے نظام کا استحکام، یہ وہ عظیم کارنامے ہیں جو مولانا مرحوم نے پوری تندہی اور جانفشانی سے کیا اور ادارے کو بام عروج پر پہنچایا، آپ عزم و استقلال کے پہاڑ تھے چٹانوں کی طرح کھڑے ہوجاتے کبھی آپ نے ہار نہیں مانی بلکہ آپکی ہمت و حوصلہ سے اوروں نے بھی سبق سیکھا اور آپ نے اپنی مختصر سی 33 سالہ‌ انتظامی زندگی میں مدرسہ کو بام عروج تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی،  خون اور پسینے سے مدرسہ کی آبیاری فرمائی اور آخری وقت تک اس کے لئے کوشاں رہے۔

مارچ 2020 سے اس ملک میں بلکہ پوری دنیا میں کرونا وباء کی وجہ سے معاشی اور اقتصادی بحران آگیا اور دنیا نے دیکھا کہ بڑی سی  بڑی کمپنیاں اور فیکٹریاں بند ہوگئیں یا بند ہونے کے قریب ہوگئیں بے روزگاری عام ہوگئی ہرطرف  پریشانی اور بکھمری کا دور دورہ شروع ہوگیا ہمارے ملک کے مدارس بھی اس سے بے حد متاثر ہوئے چونکہ مدارس اسلامیہ اللہ کے فضل اور عوامی چندے پر چلتے ہیں۔ مدرسہ ھذا بھی انہیں میں سے ایک ایسا ادارہ ہے، لیکن حضرت مولانا اپنے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ کو اخیر تک مکمل دیتے رہے۔ اس وقت سے لیکر اب تک مولانا مرحوم نے مدرسہ سے کسی استاذ یا ملازم کو نکالا اور نا ہی کسی کی تنخواہ روکی یہ اہم ذمہ داری ایک سچا خادم ہی نبھا سکتاہے جو حضرت کے عمل سے صاف عیاں ہے۔ مولانا مرحوم نے پوری زندگی محنتوں اور کارناموں کی تاریخیں رقم کی۔
      
حضرت والا نے تقریبا 57 بہاریں دیکھی تھی لیکن اللہ تعالٰی نے اس مبارک مہینے میں ان کو اپنا مہمان بنالیا اور وہ ہمیشہ کےلئے ہم سب سے جدا ہوگئے۔ حضرت کا دنیا سے چلے جانا ملک وملت اور خاص طور پر ضلعی سطح پر ناقابل تلافی نقصان ہے چونکہ حضرت مولانا جمعیۃ علماء سلطان پور کے صدر بھی تھے آپکی جدائی سے پورا ضلع غمزدہ ہے۔
اللہ تعالٰی استاذ محترم کو جنت الفردوس اعلٰی مقام عطاء فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور مدرسہ کو حضرت کا نعم البدل عطاء فرمائے آمین۔

پسماندگان میں ایک بھرا پرا اور آباد خاندان ہے والدہ محترمہ ، اہلیہ محترمہ، دو بھائی جو عالم دین اور حافظ قرآن ہیں ، چار بہنیں ، تین بیٹے ان میں دو بیٹے حافظ قرآن اور ایک بیٹا عالم ہے ایک بیٹی اور پوتا پوتی، بھتیجے بھتیجی بھانجے و بھانجی وغیرہ۔

*زمیں کی رونق چلی گئی ہے افق پہ مہر مبیں نہیں ہے*
*تری جدائی سے مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے*

*محمد اسعد قاسمی سلطان پوری*
*گوونڈی ممبئی*
                            *7506539912*

Post Top Ad

Your Ad Spot