Sada E Waqt

چیف ایڈیٹر۔۔۔۔ڈاکٹر شرف الدین اعظمی۔۔ ایڈیٹر۔۔۔۔۔۔ مولانا سراج ہاشمی۔

Breaking

متفرق

Thursday, January 20, 2022

عوام دشمن حکومت کو اقتدار سے باہر کرنا آپ کی ذمہ داری ہے!



از/✒️سرفرازاحمدقاسمی،حیدرآباد
برائے رابطہ: 8099695186
                        صدائے وقت 
=================================
          ملک کی پانچ ریاستوں میں اگلے چند دنوں میں یعنی 10 فروری سے انتخابات ہونے والے ہیں،یوپی سمیت پنجاب،گوا،اتراکھنڈ اور منی پور میں 10 فروری سے 7 مارچ تک الیکشن ہونگے،اور 10مارچ  کو گنتی ہوگی، ایسے میں ان پانچوں ریاستوں کی عوام کو اس بات کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا اور محاسبہ کرنا ہوگا کہ پانچ برس تک جنکے ہاتھوں میں اقتدار رہا،ریاستی حکومت کی باگ ڈور رہی،جولوگ اقتدار کا مزہ لیتے رہے ان لوگوں نے عوامی فلاح و بہبود کےلئے کتنا کام کیا؟ اور کیا کام کیا؟عوامی ووٹ سے منتخب ہونی والی حکومتوں اور سیاسی لیڈران سے محاسبہ کرنے کا یہی اہم موقع ہوتا ہے،لہذا پوری دیانت داری کے ساتھ اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ پچھلے پانچ برسوں میں ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا؟پھر اگلے پانچ برسوں کےلئے ایسی حکومت کا انتخاب کریں،ایسے لوگوں کو اپنا قیمتی ووٹ دیں،جوتعلیم،ترقی اور مشترکہ طور پر لوگوں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرے اور عوام دوستی کا ثبوت پیش کرے، الیکشن کا موقع دراصل ایک سنہرا موقع ہوتا ہے ایسے موقع پر سنجیدگی کے ساتھ اپنی رائے دہی کا اظہار کرنا چاہیے اور ایسے لوگوں کو اقتدار حوالے کرنا چاہیے جو لوگوں کے ہمدرد ہوں،اپنے اندر خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہوں،ملک کی تعمیر و ترقی کےلئے وہ سنجیدہ ہوں،آپ کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہمارا یہ ملک بھارت جو صدیوں سے مذہبی رواداری،فرقہ وارانہ ہم آہنگی،مختلف النوع تہذیبوں اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے،آج ان ساری چیزوں کو ختم کرنے اور ملک کو تقسیم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے،ملک کے دستور اور جمہوری نظام پر شب خون مارنے کی ایک منظم سازش کی جارہی ہے،ایسے لوگوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کےلئے ہم اپنی طاقت اور اپنے ووٹ کا استعمال کریں،بھارت میں ان دنوں جو نفرت کی لہر اپنے شباب پر ہے،ہر طرف جھوٹ،فریب اور نفرت سے بھری  سیاست کی جارہی ہے،الیکشن جیسے جیسے قریب ہوگا ویسے ویسے اشتعال انگیزی اورنفرت بھرے بیانات میں اضافہ ہوگا،ظاہر ہے یہ چیزیں کسی بھی طرح ملک وقوم  کے مفاد میں نہیں ہے،آپ کا ووٹ آپ کی طاقت ہے اور اس طاقت کا استعمال ملک کی سالمیت و تحفظ کےلئے ہوناچاہیے،بغیر کسی لالچ،ڈر اور خوف کے موقع پرستی،جھوٹ،فریب اور نفرت پر مبنی سیاست کے مقابل ایک مثبت،خدمت کے جذبے سے سرشار اور صلاح و فلاح پر مبنی  متبادل سیاسی کلچر کو فروغ دینے اوراسے پروان چڑھانے کی پوری کوشش ہونی چاہیے،وقتی طور پر اگر ہم کسی لالچ،بہکاوے اور مذہبی بلیک میلنگ کے نتیجے میں اشتعال انگیزی سے متاثر ہوکر اسکا شکار ہوگئے اور چند روپیوں کے عوض اپنے ووٹ کو منتشر کردیا اور  اسکا غلط استعمال کرکے اقتدار غلط لوگوں کے حوالے کردیا،تو یاد رکھئے کہ ایسا کرکے ہم نے خود اپنے ساتھ دھوکہ کیا،اسکے علاوہ ووٹنگ کا حق ہمارے پاس ایک امانت ہے اسکا غلط استعمال کرکے ہم نے اس میں خیانت کی،پھر اس ووٹ کے نتیجے میں جو حکومت قائم ہوگی اور وہ جو ظلم و بربریت کا معاملہ کرے گی،نفرت پھیلائے گی،ایسی حکومتوں سے جونقصان ہمارے ملک اورہماری ریاست کاہوگا،اسکے مجرم آپ بھی ہونگے،اور  یہ ذمہ داری بھی آپ کے سر ہوگی ،کیونکہ آپ کے ووٹ سے ہی یہ حکومت منتخب ہوئی ہے،گذشتہ کچھ برسوں سے جو ملک کی حالت دگرگوں ہوتی جارہی ہے،دھرم سنسد کے نام پر جو کھلے عام مسلمانوں کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،اور حکمراں طبقہ جس طریقے سے اس پر معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے، جولوگ اقتدار پر قابض ہیں،ایسے لوگ بنیادی طور پر لوگوں کے درمیان نفرت اور خلیج پیدا کرکے ہر قیمت پر کرسی سے چمٹے رہنا چاہتےہیں،اسکےلئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور مسلم حکمرانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جھوٹی تاریخ گڑھ کر پیش کرتے ہیں،یہ لوگ کبھی کہتے ہیں کہ 2035 تک بھارت کے اقتدار پر پھر مسلمان قابض ہوجائیں گے،اور یہ ہندوؤں پر ظلم کریں گے،کبھی کہتے ہیں کہ آپ تاریخ بنانا چاہتے ہیں تو یہاں سے اورنگ زیب،تیمور اور بابر کو جنم نہیں لینا چاہیے،کبھی انکا دوسرا لیڈر کہتا ہے کہ بابر، اورنگ زیب اور نظام جیسے حکمراں طویل عرصے تک باقی نہیں رہ سکتے،اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی کا مقصد کیا ہے؟ملک کی مودی حکومت جسکی سرپرستی آرایس ایس کررہی ہے،اور آرایس ایس کی بنیاد ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ختم کرنے،نفرت پھیلانے اور لوگوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے پر رکھی گئی ہے،یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی میں اس تنظیم کا کوئی حصہ نہیں،ان لوگوں نے باضابطہ انگریز بہادروں سے معافی مانگی اور ان سے صلح کرلی،اب یہ تنظیم تاریخ کو نئے انداز میں مرتب کررہی ہے اور تیزی سے اس پر کام ہورہاہے،تاریخ مسخ کرنے اور اسکو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا واقعہ کوئی اتفاقی نہیں ہے بلکہ سالوں اس پر محنت کی گئی،اقتدار کے حصول کے بعد اب یہ اپنے مشن پر تیزی سے کام کررہے ہیں  آنے والا وقت ملک کےلئے مزید پیچیدہ اور دشوارکن ہوگا ایسے میں ہم سبکی ذمہ داری ہے کہ ملک کو بحران سے بچانے کےلئے اپنا کردار اداکریں،اور ایسے لوگوں کو اقتدار سے  باہرکرنا ضروری ہے،جن پانچ ریاستوں میں الیکشن ہونے والے ہیں وہاں مہنگائی کی شرح عروج پر ہے،وہاں تعلیم و صحت پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی،البتہ ان ریاستوں میں نفرت اور فرقہ پرستی کو خوب ہوا دی گئی،ان ریاستوں کی تازہ صورتحال کیا ہے؟ یہ جاننے کےلئے آربی آئی کی یہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں،ایک اخبار کے مطابق"زیادہ تر ریاستوں میں جہاں اگلے ماہ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں،وہاں مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے،ان ریاستوں میں مہنگائی کی شرح کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت پر بھی کم رقم خرچ کی گئی ہے،یہ باتیں آربی آئی کی رپورٹ میں سامنے  آئی ہیں،ریزو بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے اعدادوشمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ دو بڑی ریاستیں اترپردیش اور پنجاب تعلیم پر خرچ کرنے کے معاملے میں قومی اوسط سے کم ہیں،دراصل صحت اور ترقی پر پنجاب کے اخراجات بھی اوسط سے کم تھے،4 ریاستوں پنجاب،گوا،اتراکھنڈ اور منی پور میں گذشتہ پانچ سالوں میں کم ازکم تین سال افراط زر کی شرح قومی اوسط سے زیادہ رہی ہے،کل اخراجات کے تناسب کے طور پر،تعلیم پر ریاستی اخراجات کے لحاظ سے اترپردیش میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے،جو 2016/17 میں 16,7 فیصد سے کم ہوکر 2020/21 میں 12,5 فیصد ہوگئی،جبکہ 2021/22 کے بجٹ تخمینوں میں قومی اوسط 13,9 فیصد تھی،اسی عرصے کے دوران پنجاب نے بہتری دکھائی،لیکن معاملہ پھر بھی وہاں قومی اوسط سے نیچے رہا،2016/17 میں 8,6 فیصد سے 2021/22 میں 10 فیصد تک پنجاب قومی اوسط سے نیچے رہا،صرف اتراکھنڈ نے قومی اوسط سے زیادہ 17,3 فیصد خرچ کیا ہے،منی پور نے 10,7 فیصد اور گوا نے 13,1 فیصد خرچ کیا ہے،دوسری جانب اگر ہم صحت کی بات کریں تو صحت پر ریاستی اخراجات کےلئے کل اخراجات کے تناسب سے پنجاب نے 3,4فیصد اور منی پور نے 4,2 فیصد خرچ کیا ہے،جوکہ 5,5 فیصد کی قومی اوسط سے کم ہے،وہیں یہ خرچ گوا میں 6,8 فیصد اتراکھنڈ میں 6,1 فیصد اور اترپردیش میں 5,9 تھا،2016/17 اور 2021/22 کے درمیان منی پور کے علاوہ تمام ریاستوں میں صحت پر خرچ میں بہتری آئی ہے،جو اسی مدت کے دوران قومی اوسط 4,6 فیصد سے بڑھکر 5,5 فیصد تک پہونچ گئی ہے،دوسری طرف،ترقیاتی کاموں پر کل اخراجات کے لحاظ سے پنجاب اور اتراکھنڈ قومی اوسط سے نیچے تھیں،اسکے علاوہ کچھ ریاستوں میں قومی اوسط سے زیادہ افراط زر کی شرح ہے،مثال کے طور پر اتراکھنڈ میں چار سالوں یعنی 2017/18 سے 2020/21 میں افراط زر کی شرح بہت زیادہ تھی،2020/21 میں اتراکھنڈ کےلئے سالانہ افراط زر کی شرح 8,1 رہی جبکہ قومی سطح پر 6,2 تھی،2019/20 میں یہ 4,8 کی قومی اوسط کے مقابلے میں 5,9 فیصد تھی"
یہ ان پانچوں ریاستوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی تازہ  رپورٹ ہے جو ابھی ایک دودن قبل ہی اخبارات میں شائع ہوئی ہے اس رپورٹ سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان ریاستوں کی صورتحال کیاہے؟اس وقت جبکہ پورا ملک ہی بحران کا شکار ہے اور عجیب بے چینی و افراتفری میں مبتلاء ہے تو  ان پانچ ریاستوں میں اس طرح کی صورتحال کوئی تعجب خیز نہیں ہے،ملک بھر میں مہنگائی،بے روزگاری اور نفرت کی شدت بڑھ رہی ہے،اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہورہاہے اسکا ذمہ دار کون ہے؟یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے،نوٹ بندی، جی ایس ٹی،لاک ڈاؤن اور کوڈ کی وجہ سے جو ملک کو بحران میں ڈھکیل دیاگیا،لاکھوں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے،لیکن حکومت میں بیٹھے ہوئے سنگھی لوگ تماشائی بنے رہے ان کی جان بچانے کےلئے کوئی  کوشش نہیں کی گئی آج بھی لاکھوں لوگ ایک وقت کے کھانے کےلئے ترس رہےہیں کیا ایسی  حکومت اور اقتدار پر قابض ایسے لوگ عوام دوست ہوسکتے ہیں؟ یہ بھی آپ کو سوچنا ہوگا،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن آپ کا فیصلہ ملک کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار اداکرےگا،یہ بات  ذہن میں رکھنا ہوگا کہ موجودہ حکومت کو عوام کی فلاح و بہبود اور انکی ترقی و خوشحالی سے  کوئی دلچسپی نہیں ہے،صرف انھیں اقتدار عزیز ہے اور اسی لئے جان بوجھ کر یہ سماجی تانے بانے کو بکھیرنے اور اسکو مجروح کرنے میں مسلسل مصروف ہیں،اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کیسا سماج چاہتےہیں؟ ملک کی بقاء وترقی،خوشحالی اور سالمیت کےلئے دستور سازوں نے اس ملک کے باشندوں کےلئے جو دستور مرتب کیا اور جو حقوق عطاکئے،ملک کی ہم آہنگی اور یکجہتی کو قائم رکھنے کےلئے جو راستہ ہمیں دکھلایاگیا ہے اس پر مضبوطی سے ڈٹے رہنا اور پوری قوت کے ساتھ اس پر قائم رہنے میں ہی ملک کے عوام کی بھلائی اور ترقی مضمر ہے اور یہ کام حکومتی وعوامی دونوں سطح پر کرنے کی ضرورت ہے،ملک کے عوام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے دانش مندانہ فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے شرپسندوں پر یہ واضح کردیں کہ وہ ایک پرامن، ترقی یافتہ اور ہرطرح کی دشمنی سے پاک ملک چاہتےہیں،جو لوگ ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں انھیں ہی اقتدار سونپا جائے گا،اور جو ان باتوں سے اختلاف رکھتے ہیں انھیں اقتدار میں رہنے اور حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں،آئیے موقع پرستی،خودغرضی،مفاد پرستی،ہرقسم کے تعصب سے بالاتر ہوکر اور متحدہوکر عوام دوست حکومت کا انتخاب کریں اور ساتھ ہی عوام دشمن حکومت کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکیں،جو ملک وملت اوروقت کی اہم ضرورت ہے۔
(مضمون نگارکل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmil.com

Post Top Ad

Your Ad Spot